کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی زری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے پالیسی ریٹ کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کی وجہ سے تیل کی عالمی قیمتیں اب بھی بلند ہیں، جس کے اثرات ملکی معیشت پر ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں اور اپریل و مئی میں عمومی مہنگائی دہرے ہندسے میں داخل ہو چکی ہے۔ تاہم، موجودہ زری پالیسی کا موقف وسط مدت میں مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے ہدف کے اندر رکھنے کے لیے موزوں ہے۔
اسٹیٹ بینک کے اعلامیے کے مطابق پاکستان دفترِ شماریات نے مالی سال 2026ء کے لیے حقیقی جی ڈی پی کا عبوری تخمینہ 3.7 فیصد لگایا ہے، جو گزشتہ مالی سال کے 3.2 فیصد سے بہتر ہے۔ مالی سال 26ء کے ابتدائی 9 ماہ میں بڑے پیمانے کی اشیا سازی (LSMI) میں 6.5 فیصد کی مضبوط نمو دیکھی گئی، تاہم چوتھی سہ ماہی میں معاشی سرگرمیوں میں اعتدال اور خریف کی فصلوں پر موسم کے منفی اثرات کے باعث مالی سال 2027ء میں معاشی نمو کی رفتار ماند رہنے کا خدشہ ہے۔
ملک کے بیرونی کھاتے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کی کامیاب تکمیل کے باعث 5 جون 2026ء تک اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر 17.2 ارب ڈالر ہو چکے ہیں اور جون کے اختتام تک ان کے 18 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اپریل میں جاری کھاتے (کرنٹ اکاؤنٹ) کو 0.3 ارب ڈالر خسارے کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ توانائی کی درآمدات میں اضافہ تھی، تاہم کارکنوں کی ترسیلاتِ زر (رِیمیٹنسز) کی مضبوط کارکردگی نے اس دباؤ کو کافی حد تک کم رکھا۔
مالیاتی محاذ پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال 26ء کے لیے اپنے ٹیکس وصولیوں کا ہدف کم کر کے تقریباً 13 ٹریلین روپے کر دیا ہے۔ اس کمی کے باوجود حکومت اخراجات کو قابو میں رکھ کر جی ڈی پی کا 2.5 فیصد پرائمری سرپلس حاصل کرنے کے لیے پُرامید ہے، جبکہ مالی سال 27ء کے لیے یہ ہدف 2.0 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ زری پالیسی کمیٹی نے معاشی استحکام کے لیے ٹیکس نیٹ بڑھانے اور سرکاری اداروں (PSEs) کی نجکاری اور اصلاحات جیسی ساختی تبدیلیاں تیز کرنے پر زور دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مئی 2026ء تک زرِ وسیع (M2) کی نمو کم ہو کر 14.3 فیصد رہ گئی، جبکہ نجی شعبے کے قرضوں میں عید کے سیزن اور صارفی ضروریات کے باعث 13 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دوسری جانب مہنگائی کے دباؤ میں شدید اضافہ دیکھا گیا ہے؛ مارچ میں 7.3 فیصد پر موجود عمومی مہنگائی اپریل میں 10.9 فیصد اور مئی میں بڑھ کر 11.7 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ قوزی (کور) مہنگائی بھی مئی میں 8.7 فیصد ہو گئی۔ گندم کی قیمتوں میں غیر متوقع اضافے اور ایندھن کی مہنگی قیمتوں نے اس میں بنیادی کردار ادا کیا۔
مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ مہنگائی کا یہ دہرا ہندسہ اگلے چند ماہ تک برقرار رہ سکتا ہے، جس کے بعد اس میں کمی متوقع ہے۔ تاہم یہ منظرنامہ عالمی سیاسی حالات، بجلی و گیس کے نرخوں میں ممکنہ ردوبدل اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے مشروط رہے گا۔