"میں ایک نجی ٹی وی پروگرام میں موجود تھی جہاں خواتین کے حقوق پر گفتگو ہو رہی تھی۔ جب تیزاب گردی کے واقعات زیرِ بحث آئے تو خلیل الرحمٰن قمر کا ردعمل سن کر میں واقعی حیران رہ گئی۔ وہ کہنے لگے کہ آپ ایسے بات کر رہی ہیں جیسے تمام مرد جیبوں میں تیزاب کی بوتلیں لے کر گھومتے ہیں۔ اگر کسی کو اس مسئلے کی سنگینی کا احساس نہیں تو کم از کم اسے ایسے غیر سنجیدہ تبصرے کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ تیزاب گردی کا شکار ہونے والی عورت زندگی بھر جسمانی اور ذہنی اذیت سہتی ہے، لیکن افسوس کہ بعض لوگ آج بھی ایسے جرائم میں عورت ہی کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔"
خلیل الرحمٰن قمر کے ایک متنازع بیان نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی، جہاں مسلم لیگ (ن) کی رہنما حنا پرویز بٹ نے ان کے خیالات پر کھل کر اعتراض اٹھا دیا۔ ایک ٹی وی پروگرام میں تیزاب گردی جیسے حساس مسئلے پر ہونے والی گفتگو کے دوران دیے گئے ریمارکس پر ردعمل دیتے ہوئے حنا پرویز بٹ نے کہا کہ ایسے سنگین جرائم کو ہلکا لینے والا رویہ متاثرہ خواتین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں ڈاکٹر ماہ نور سمیت تیزاب گردی کے حالیہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف اعداد و شمار یا خبریں نہیں بلکہ ایسی زندگیاں ہیں جو ایک لمحے میں بدل کر رہ جاتی ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ جب کسی خاتون پر تیزاب پھینکا جاتا ہے تو صرف اس کا چہرہ نہیں جھلستا بلکہ اس کے خواب، اعتماد اور معمول کی زندگی بھی متاثر ہوتی ہے۔
حنا پرویز بٹ نے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیو میں اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ معاشرے میں آج بھی بعض افراد ایسے جرائم کے پس منظر اور نتائج کو سمجھنے کے بجائے غیر سنجیدہ انداز اختیار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ضرورت اس امر کی ہے کہ متاثرین کے ساتھ ہمدردی اور انصاف کی بات کی جائے، نہ کہ ایسے تبصرے کیے جائیں جو مسئلے کی حساسیت کو کمزور کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ تیزاب گردی محض ایک جرم نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف ایسا عمل ہے جس کے اثرات متاثرہ فرد پوری زندگی برداشت کرتا ہے، اس لیے اس موضوع پر گفتگو کرتے وقت ذمہ داری، سنجیدگی اور شعور کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے۔