پاکستان کے دارالحکومت میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے ادارے کی موجودہ صورتحال، درپیش چیلنجز اور مستقبل کے اہداف پر کھل کر گفتگو کی۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ ایس ای سی پی دن بہ دن بیوروکریٹک ہوتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے اس کے تنظیمی ڈھانچے میں اس وقت 11 ڈویژن اور 36 ڈیپارٹمنٹس بن چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عہدہ سنبھالنے کے بعد انہیں اس تقریب میں آنے میں 4 ماہ کا عرصہ اس لیے لگا کیونکہ وہ اس دوران ادارے کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور اس میں اصلاحات لانے کے لیے کوشاں تھے۔
چیئرمین ایس ای سی پی نے پاکستان کے کاروباری نظام میں ٹیکنالوجی کی کمی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں آٹومیشن (جدید کمپیوٹرائزڈ نظام) کے فقدان کے سبب کمپنیوں کی رجسٹریشن میں بہت زیادہ وقت ضائع ہوتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں کئی دفاتر تاحال 1980ء کی دہائی کا منظر پیش کرتے ہیں جہاں پرانا طرزِ عمل رائج ہے۔
ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے مستقبل کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ہدف پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کی موجودہ تعداد کو بڑھا کر 25 لاکھ تک پہنچانا ہے۔ انہوں نے شرکاء کو مطلع کیا کہ اس ہدف کو حاصل کرنے اور مارکیٹ کی ترقی کے لیے کیپیٹل مارکیٹس ڈویلپمنٹ فنڈ کا قیام بھی عمل میں لایا جا چکا ہے۔