غدر ایک پریم کتھا ریلیز ہونے کے بعد مجھے پاکستان سے بے حد محبت ملی۔ وہاں کی خواتین میرا نمبر تلاش کر کے مجھے کال کرتی تھیں، وہ روتی تھیں اور بہت سے لوگوں نے میری فلم کے کردار سکینہ سے متاثر ہو کر اپنی بیٹیوں کے نام بھی سکینہ رکھے۔ مجھے وہاں سے بہت پیار ملا۔
بالی ووڈ اداکارہ امیشا پٹیل نے ایک حالیہ انٹرویو میں اپنی فلمی مقبولیت اور خاص طور پر پاکستان سے ملنے والی مبینہ پذیرائی سے متعلق ایسے دعوے کیے ہیں جنہوں نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
امیشا پٹیل، جنہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز بلاک بسٹر فلم “کہو نہ پیار ہے” سے کیا تھا، بعد ازاں “غدر ایک پریم کتھا” میں نظر آئیں جو بھارتی سینما کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلموں میں شمار کی جاتی ہے۔ تاہم اس کے بعد ان کا فلمی کیریئر وہ رفتار برقرار نہ رکھ سکا جس کی ان سے توقع کی جا رہی تھی۔
حال ہی میں بھارتی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ “غدر” کے بعد انہیں پاکستان سے بھی بڑی تعداد میں محبت اور توجہ ملی۔ ان کے مطابق پاکستانی خواتین ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتی تھیں اور ان کے کردار “سکینہ” کو بے حد پسند کیا گیا۔
ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔ کئی صارفین نے ان کے دعووں پر حیرت کا اظہار کیا جبکہ بعض نے ان باتوں کو حقیقت سے دور قرار دیا۔ کچھ صارفین نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں بھارتی فلموں کی موجودہ رسائی محدود ہے، اس لیے اس نوعیت کے دعوے مبالغہ آمیز لگتے ہیں۔
یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنا ہوا ہے، جہاں ایک طرف ان کے پرستار ان کی باتوں کو سراہ رہے ہیں تو دوسری طرف بڑی تعداد میں صارفین ان کے دعووں پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔