"میں گرین بس میں بیٹھ کر کہاں جاؤں گی اگر میرے پاس نوکری ہی نہیں ہے؟ کیا کبھی کسی نے سوچا ہے کہ اتنی بڑی آبادی اس شہر میں کیسے گزارہ کرے گی جو پہلے سے اس پیمانے پر بنا ہی نہیں تھا؟ روزگار کے مواقع کہاں ہیں؟ معیشت میں نوجوانوں کا کردار کیسے ممکن ہوگا؟ صرف بسیں چلانے سے کچھ نہیں بدلتا، شہری ترقی کا مطلب صرف ٹرانسپورٹ نہیں ہوتا بلکہ لوگوں کو روزگار دینا ہوتا ہے۔ گرین لائن، اورنج لائن یا ریڈ لائن بسیں اکیلے شہر کو بہتر نہیں بنا سکتیں جب تک لوگوں کے پاس کام اور آمدنی نہ ہو۔"
کراچی میں منعقد ہونے والی ایک پریس ٹاک کے دوران سینئر اداکارہ ثانیہ سعید نے شہر کے بنیادی مسائل اور ترقیاتی منصوبوں پر کھل کر بات کی اور خاص طور پر روزگار کی کمی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ شہر میں انفراسٹرکچر کے منصوبے تو بڑھ رہے ہیں لیکن اگر عوام کے پاس روزگار نہ ہو تو یہ سہولتیں ان کی زندگی میں حقیقی بہتری نہیں لا سکتیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک ایسی بڑی آبادی کو کیسے سنبھالا جائے گا جب بنیادی معاشی مواقع ہی محدود ہوں۔
ثانیہ سعید کے مطابق نوجوان نسل کو معیشت میں شامل کرنے اور انہیں خود کفیل بنانے کے لیے صرف ٹرانسپورٹ یا ترقیاتی منصوبے کافی نہیں، بلکہ روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرنا زیادہ ضروری ہے۔
ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر بھی بحث شروع ہو گئی ہے جہاں کئی صارفین ان کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ شہروں کی ترقی کا اصل پیمانہ روزگار اور معاشی استحکام ہے، جبکہ کچھ لوگ اسے شہری منصوبہ بندی کے مختلف زاویے سے دیکھ رہے ہیں۔
ثانیہ سعید اپنی سنجیدہ اور حقیقت پسندانہ رائے کے باعث پہلے بھی سماجی مسائل پر کھل کر بات کرتی رہی ہیں، اور اس بار بھی انہوں نے شہری ترقی کے حوالے سے ایک اہم بحث کو جنم دیا ہے۔