تارے زمین پر کے ننھے اداکار نے حقیقی زندگی میں بڑی کامیابی حاصل کرلی

image

2007 میں ریلیز ہونے والی بالی ووڈ کی مشہور فلم تارے زمین پر آج بھی ناظرین کے دلوں میں ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ فلم کی ہدایت کاری اور پروڈیوسنگ عامر خان نے کی تھی جبکہ کہانی امول گپتے نے تحریر کی تھی۔ فلم ایک آٹھ سالہ بچے ایشان آوستھی کی کہانی پر مبنی تھی جو غیرمعمولی تخلیقی صلاحیتوں کا مالک تھا لیکن تعلیمی مشکلات کا سامنا کر رہا تھا۔ بعد میں ایک استاد اس کی ڈسلیکسیا کی بیماری کو پہچانتا ہے اور اسے اپنی صلاحیتیں نکھارنے میں مدد دیتا ہے۔

فلم میں ایشان آوستھی کا کردار درشیل سفاری نے ادا کیا تھا، جس نے اپنی شاندار اداکاری سے دنیا بھر میں شہرت حاصل کی۔ تاہم فلم میں ایشان کے بڑے بھائی یوہان آوستھی کا کردار ادا کرنے والے سچیت انجینئر بھی ناظرین کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سچیت انجینئر نے فلم کے بعد اداکاری کے میدان میں اپنا کیریئر جاری نہیں رکھا۔ انہوں نے شوبز سے دور رہتے ہوئے تعلیم پر توجہ دی اور بعد ازاں دندان سازی (ڈینٹسٹری) کی ڈگری حاصل کی۔ رپورٹس کے مطابق وہ اس وقت برطانیہ میں بطور ڈینٹسٹ خدمات انجام دے رہے ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر سچیت انجینئر کی کامیابی کو خوب سراہا جا رہا ہے۔ مداح ان کی زندگی کے سفر کو متاثر کن قرار دے رہے ہیں اور فلم میں ان کے کردار سے دلچسپ موازنہ بھی کر رہے ہیں۔ بعض صارفین مزاحیہ انداز میں لکھ رہے ہیں کہ "وہ ایشان کے دانت ٹھیک کرنے کے لیے حقیقی زندگی میں ڈینٹسٹ بن گئے"، جبکہ کچھ لوگ یہ تبصرہ بھی کر رہے ہیں کہ "نام انجینئر تھا لیکن ڈاکٹر بن گئے۔"

سوشل میڈیا صارفین سچیت انجینئر کی اس کامیابی کو اس بات کی مثال قرار دے رہے ہیں کہ فلمی دنیا سے دور رہ کر بھی زندگی میں بڑی کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔ دوسری جانب فلم کے مرکزی اداکار درشیل سفاری اب ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر سرگرم ہیں اور ایک کامیاب ڈیجیٹل کریئیٹر کے طور پر اپنی شناخت بنا چکے ہیں۔

تقریباً دو دہائیوں بعد بھی تارے زمین پر کے یہ ننھے ستارے مداحوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، لیکن اس بار وجہ ان کی فلمی کامیابی نہیں بلکہ حقیقی زندگی میں حاصل کی گئی کامیابیاں ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US