آخر ایسے لوگوں کو ٹی وی پر بیٹھ کر کمزور اور پریشان حال خواتین کو اس قسم کے مشورے دینے کی اجازت کیوں دی جاتی ہے؟ اتنے عرصے سے اس پروگرام کے متنازع بیانات کی نشاندہی کی جا رہی ہے، پھر بھی اسے بند کیوں نہیں کیا گیا؟ یہ لوگ اب تک اسکرین پر کیوں نظر آ رہے ہیں؟ پیمرا کو یہ سب بھی دکھایا جائے۔
معروف ڈیجیٹل کریئیٹر اور اداکارہ تمکنت منصور نے معروف مذہبی اسکالر اور ٹی وی میزبان سید بلال قطب کے ایک حالیہ بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ان کے پروگرام پر پابندی کا مطالبہ کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ان دنوں سید بلال قطب کے پروگرام کا ایک کلپ تیزی سے وائرل ہو رہا ہے جس میں ایک خاتون نے اپنی ازدواجی زندگی کے مسائل بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا شوہر معمولی باتوں پر غصے میں آ جاتا ہے، گالم گلوچ کرتا ہے اور وہ گزشتہ چھ ماہ سے اپنے والدین کے گھر مقیم ہیں۔ خاتون نے پروگرام میں مشورہ طلب کیا کہ انہیں اب کیا کرنا چاہیے۔
اس سوال کے جواب میں سید بلال قطب نے خاتون کو جلد بازی میں فیصلہ نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں انہیں اپنے شوہر کے پاس واپس جانا چاہیے اور آیتِ کریمہ کا ورد کرنا چاہیے۔
یہ کلپ منظرِ عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گیا۔ کئی صارفین نے اس مشورے پر تنقید کی جبکہ تمکنت منصور نے بھی اپنی انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے شدید اعتراض اٹھایا۔ انہوں نے نہ صرف سید بلال قطب کے مؤقف کو تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ متعلقہ حکام سے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔
تمکنت منصور نے اپنی پوسٹ میں پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز سمیت مختلف سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو ٹیگ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ گھریلو تشدد جیسے حساس معاملات پر اس نوعیت کے مشورے عوام تک پہنچانے والے پروگرام اب تک نشر کیوں ہو رہے ہیں۔ ان کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے جہاں صارفین کی ایک بڑی تعداد ٹی وی پروگراموں میں دی جانے والی سماجی اور مذہبی رہنمائی کے معیار پر سوالات اٹھا رہی ہے۔