میں کسی کا نام نہیں لینا چاہتی، لیکن ہماری شوبز انڈسٹری میں کئی ایسی کامیاب اور باصلاحیت اداکارائیں موجود ہیں جنہیں بچپن میں ان کے والد چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ وہ اپنی ماؤں کے ساتھ رشتہ داروں کے گھروں میں رہیں، زندگی کی بے شمار مشکلات کا سامنا کیا اور پھر اپنی محنت اور صلاحیت کے بل بوتے پر کامیابی حاصل کی۔ کچھ نے اپنی زندگیوں کو سنوار لیا اور شادی بھی کر لی۔
انہوں نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کوئی باپ اپنے بچوں سے لاتعلق کیسے ہو سکتا ہے۔ کیا وہ اپنی بیٹیوں کے بارے میں نہیں سوچتے؟ کیا انہیں یہ نظر نہیں آتا کہ ان کے بچے آگے بڑھ رہے ہیں؟ صرف بیوی سے ناراضی کی وجہ سے بچوں سے منہ موڑ لینا میرے لیے ناقابلِ فہم ہے۔ ایسے لوگ اپنے بچوں کی طرف پلٹ کر بھی نہیں دیکھتے، اللہ ہی انہیں اس کا حساب دے گا۔
پاکستانی شوبز کی سینئر اداکارہ اور میزبان بشریٰ انصاری نے اپنے حالیہ وی لاگ میں ایک ایسا موضوع چھیڑ دیا جس نے بہت سے لوگوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔ انہوں نے ان خواتین فنکاروں کا ذکر کیا جنہوں نے بچپن میں والد کی عدم موجودگی یا بے توجہی کا سامنا کیا، لیکن بعد میں اپنی ہمت اور جدوجہد سے نمایاں مقام حاصل کیا۔
بشریٰ انصاری نے نام ظاہر کیے بغیر کہا کہ انڈسٹری میں کئی ایسی معروف شخصیات موجود ہیں جن کی زندگی کا آغاز آسان نہیں تھا۔ گھریلو مشکلات، معاشی مسائل اور خاندانی محرومیوں کے باوجود انہوں نے ہار نہیں مانی اور اپنے لیے راستہ خود بنایا۔
اداکارہ نے خاص طور پر ان والدین کے رویے پر افسوس کا اظہار کیا جو ازدواجی اختلافات کی قیمت اپنے بچوں سے وصول کرتے ہیں۔ ان کے مطابق بعض اوقات بچوں کو وہ محبت اور توجہ نہیں ملتی جس کے وہ حق دار ہوتے ہیں، حالانکہ ان کا کسی تنازع سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
بشریٰ انصاری کے خیالات نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ کامیابی کے پیچھے صرف شہرت کی کہانی نہیں ہوتی بلکہ بعض اوقات برسوں کی خاموش جدوجہد، محرومیاں اور ایسے زخم بھی ہوتے ہیں جن کا علم دنیا کو بہت دیر بعد ہوتا ہے۔