مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہمارے معاشرے میں ایک خوش، خودمختار اور پراعتماد عورت کو اتنی آسانی سے تنقید کا نشانہ کیوں بنا دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی خاتون اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھتی ہے، اپنے خواب پورے کرنا چاہتی ہے اور زندگی میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتی ہے تو اسے منفی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ میں اپنی زندگی اپنے مقاصد کے ساتھ جینا چاہتی ہوں، خوش رہنا چاہتی ہوں اور جو مواقع ملیں ان سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتی ہوں۔ اگر کسی عورت میں کچھ حاصل کرنے کی اہلیت موجود ہے تو اسے روکنے کی کیا وجہ ہے؟ مجھے یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ لوگ خواتین کے ذاتی فیصلوں پر فیصلہ سنانے کا حق خود کو کیوں دے دیتے ہیں، خاص طور پر جب ان فیصلوں کا ان کی زندگی سے کوئی تعلق ہی نہ ہو۔
پاکستانی اداکارہ جویریہ عباسی نے ایک حالیہ انٹرویو میں معاشرے کے ان رویوں پر کھل کر بات کی جو اکثر خواتین کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مرد اور عورت کے لیے کامیابی کا پیمانہ اب بھی یکساں نہیں، اور یہی فرق بہت سی خواتین کو غیرضروری تنقید کا سامنا کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
جویریہ عباسی کے مطابق ایسی خواتین جو اپنی خواہشات، اہداف اور کیریئر کو سنجیدگی سے لیتی ہیں، انہیں اکثر سوالات اور اعتراضات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسری جانب روایتی سانچے میں ڈھلی خواتین کو معاشرہ زیادہ آسانی سے قبول کر لیتا ہے۔ ان کے خیال میں یہی سوچ خواتین کی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
اداکارہ نے سوشل میڈیا کے ماحول کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خواتین جو بھی انتخاب کریں، چاہے وہ لباس سے متعلق ہو یا زندگی کے کسی بڑے فیصلے سے، انہیں تنقید سے بچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض لوگ دوسروں کی نجی زندگیوں پر رائے دینا اپنا حق سمجھتے ہیں، حالانکہ ہر فرد کو اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔
گفتگو کے دوران جویریہ عباسی نے اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے ہونے والی تبصروں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ خواتین کو مسلسل وضاحتیں دینے یا دوسروں کی منظوری حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق عورت کو اپنی زندگی خوف یا معذرت کے احساس کے ساتھ نہیں بلکہ اعتماد اور اختیار کے ساتھ گزارنے کا حق حاصل ہے۔
ان کے خیالات نے ایک بار پھر اس بحث کو تازہ کر دیا ہے کہ کیا ہمارے معاشرے میں کامیاب اور خودمختار خواتین کو آج بھی مختلف پیمانوں پر پرکھا جاتا ہے اور کیا وقت آ گیا ہے کہ ان رویوں پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔