کراچی کا ہنستا بستا گھرانہ بلوچستان میں دہشت گردی کا نشانہ بن گیا

image

ایک ہنستا بستا گھرانہ، معصوم بچیوں کی خوشیاں اور پکنک کا شوق سیکنڈوں میں ماتم میں بدل گیا۔

کراچی کے علاقے ناظم آباد کا رہائشی اور موبائل کا تاجر علی مرتضیٰ اپنی فیملی کے ساتھ کوئٹہ کی سیر کو نکلا تھا، یہ سوچے بغیر کہ بلوچستان کی سڑکوں پر بھیڑیے نما دہشت گرد گھات لگائے بیٹھے ہیں۔ کوئٹہ سے واپسی کے سفر کے دوران صرف ایک سیکنڈ کی چوک اور گوگل میپ پر راستہ بھٹکنے کی وجہ سے یہ معصوم اور نہتا خاندان بی ایل اے کے سفاک دہشت گردوں کی درندگی کا نشانہ بن گیا۔

مستونگ کے علاقے دشت میں نامعلوم سفاک قاتلوں نے کار پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں گھر کا سربراہ علی مرتضیٰ موقع پر ہی دم توڑ گیا جبکہ اس کی اہلیہ کو ایک دو نہیں بلکہ 5 گولیاں ماری گئیں جو اس وقت اسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی ہے۔

اس واقعے کا سب سے بڑا المیہ اور دردناک منظر یہ ہے کہ گاڑی میں موجود ننھی معصوم بیٹیاں اس درندگی کا لائیو منظر دیکھتی رہیں۔ ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے باپ کو شہید کیا گیا اور مقتول کو 7 گولیاں ماری گئیں۔ ان ننھی بچیوں کے سہمے ہوئے چہرے اور ان کی کانپتی ہوئی سسکیاں آج انسانیت سے سوال کر رہی ہیں کہ ان کا قصور کیا تھا۔ انہوں نے نہ کسی کے حقوق چھینے تھے اور نہ کسی کے وسائل پر قبضہ کرنے گئے تھے، ان کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ ایک سیاح تھے اور راستہ بھٹک کر اس خونی متبادل راستے پر نکل گئے جہاں موت رقص کر رہی تھی۔

اس موقع پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی منافقت بھی کھل کر سامنے آگئی ہے۔ جب کوئی دہشت گرد قانون کی گرفت میں آتا ہے تو انسانی حقوق کی نام نہاد تنظیمیں تڑپ اٹھتی ہیں، پریس ریلیز جاری ہوتی ہیں اور موم بتیاں جلائی جاتی ہیں۔ لیکن آج جب ایک بے گناہ شہری کی لاش کراچی پہنچ چکی ہے، جس کی نمازِ جنازہ بھی ادا کردی گئی، جب ایک ماں اسپتال میں موت سے لڑ رہی ہے اور معصوم بچیاں یتیم ہوچکی ہیں تو ان نام نہاد انسانی حقوق کے ٹھیکیداروں کو سانپ سونگھ گیا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسانی حقوق صرف اور صرف ہتھیار اٹھانے والے دہشت گردوں کے ہوتے ہیں اور کیا ایک نہتا، بے گناہ اور قانون پسند پاکستانی انسان نہیں ہے یا اسے جینے کا حق نہیں ہے۔ یہ بہیمانہ ظلم پاکستان کے ہر اس شہری پر حملہ ہے جو امن سے جینا چاہتا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ ان سفاک درندوں اور ان کے پشت پناہوں کا ہمیشہ کے لیے قلع قمع کیا جائے تاکہ پھر کسی معصوم بچی کا باپ اس کی آنکھوں کے سامنے لہولہان نہ ہو۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US