"ہم سب آرام کر رہے تھے کہ اچانک نینی گھبرائی ہوئی ہمارے کمرے میں آئی اور بتایا کہ میرے چھوٹے بیٹے جے کے کمرے میں ایک شخص چاقو لیے موجود ہے اور پیسے مانگ رہا ہے۔ میں فوراً وہاں پہنچا تو دیکھا کہ اس نے میرے بیٹے کو پکڑا ہوا تھا۔ بچے اور ملازمہ دونوں کو معمولی زخم آئے تھے۔ میں نے اس کا مقابلہ کیا، مگر وہ مسلسل چاقو سے حملے کر رہا تھا۔ ہر طرف خون پھیل چکا تھا۔ ایک لمحہ ایسا بھی آیا جب اسپتال لے جانے سے پہلے میں فرش پر پڑا سوچ رہا تھا کہ شاید اب میری جان نہ بچ سکے۔ میں اس شخص کو معاف کرنا چاہتا تھا، لیکن اس نے جس طرح مجھے قتل کرنے کی کوشش کی، اس حقیقت کو بھلانا میرے لیے آج بھی آسان نہیں۔"
بولی وڈ کے معروف اداکار سیف علی خان نے گزشتہ سال جنوری میں اپنی رہائش گاہ پر ہونے والے جان لیوا حملے کے بارے میں پہلی بار تفصیل سے گفتگو کرتے ہوئے ان لمحات کو یاد کیا ہے جنہوں نے ان کے پورے خاندان کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا تھا۔
ایک حالیہ انٹرویو میں سیف علی خان نے بتایا کہ حملہ آور باتھ روم کی کھڑکی توڑ کر گھر کے اندر داخل ہوا اور سیدھا ان کے چھوٹے بیٹے جے کے کمرے تک پہنچ گیا۔ اس وقت گھر میں سب لوگ آرام کر رہے تھے، لیکن نینی نے آ کر خطرے سے آگاہ کیا، جس پر وہ فوراً بیٹے کے کمرے کی طرف دوڑ پڑے۔
اداکار کے مطابق جب وہ کمرے میں داخل ہوئے تو حملہ آور ان کے بیٹے کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے تھا۔ بچے اور ملازمہ دونوں کو معمولی چوٹیں لگ چکی تھیں۔ انہوں نے بغیر وقت ضائع کیے حملہ آور کا سامنا کیا، جس کے بعد دونوں کے درمیان شدید ہاتھا پائی ہوئی۔ اسی دوران ایک ملازمہ نے بھی ہمت دکھائی اور حملہ آور کو دھکا دے کر دور کر دیا۔
سیف علی خان نے بتایا کہ حملے میں وہ بری طرح زخمی ہوئے تھے۔ ان کے کپڑے خون سے بھر چکے تھے اور اسپتال منتقل ہونے سے پہلے ایک لمحے کے لیے انہیں یہ احساس ہونے لگا تھا کہ شاید وہ زندہ نہ رہ سکیں۔
انہوں نے ایک جذباتی لمحے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اپنے بڑے بیٹے تیمور سے پوچھا کہ کیا وہ ان کے ساتھ اسپتال جانا چاہے گا۔ تیمور نے معصومیت سے سوال کیا، "کیا آپ مرنے والے ہیں؟" جس پر انہوں نے اسے تسلی دی کہ ایسا نہیں ہوگا، اور پھر دونوں ایک ساتھ اسپتال روانہ ہوئے۔
اداکار نے حملہ آور کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ دل میں اسے معاف کرنا چاہتے تھے کیونکہ ان کے خیال میں اس شخص نے ایک بہت بڑی غلطی کی، لیکن جس انداز میں اس نے ان کی جان لینے کی کوشش کی، اس یاد کو دل سے نکالنا آج بھی ان کے لیے ممکن نہیں ہوسکا۔