جیو نیوز پر نشر ہونے والے ایک پروگرام میں حضرت محمد ﷺ کی شبہیہ دکھائے جانے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ اس اقدام کو ایک سنگین غلطی قرار دیا جا رہا ہے، جسے بہت سے حلقوں نے ایسی حد عبور کرنا قرار دیا ہے جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
جیو نیوز انتظامیہ نے اس معاملے پر اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے عوام سے باقاعدہ معذرت بھی کر لی ہے۔
اس واقعے کے بعد ریاستی اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے جیو نیوز کی نشریات ملک بھر میں بند کر دیں۔ معاملہ اب قانونی کارروائی کے لیے پیمرا کی شکایات کونسل کے سپرد کر دیا گیا ہے، جہاں قانون کے مطابق اس کا جائزہ لیا جائے گا۔
اس معاملے میں ذمہ داری کا تعین قانونی طریقہ کار کے تحت ہونا چاہیے۔ جذبات، ہجوم یا عوامی دباؤ کی بنیاد پر فیصلے کرنا قانون کی حکمرانی کے اصولوں کے خلاف ہے۔
یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ جب ریاست اور متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں تو کسی فرد یا گروہ کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے یا عوام کو اشتعال دلانے کا حق حاصل نہیں۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ حضرت محمد ﷺ کی حرمت اور تقدس ہر مسلمان کے لیے انتہائی اہم ہے، اسی لیے ضروری ہے کہ اس حساس معاملے کو قانون کے مطابق نمٹنے دیا جائے اور قانونی عمل میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔