اسلام آباد ہائیکورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر قومی احتساب بیورو (نیب) کو اپنے دلائل کا آغاز کرنے کی ہدایت کردی۔
سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دینے سے گریز کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ کے سابقہ حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا چکا ہے، اس لیے اعلیٰ عدالت کے فیصلے سے قبل اپیلوں پر کارروائی مؤثر نہیں رہے گی۔
چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ جب دفاع اپنے دلائل پیش کرنے سے انکار کر رہا ہے تو عدالت کے پاس نیب کو دلائل دینے کی ہدایت کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
چیف جسٹس نے بیرسٹر سلمان صفدر سے استفسار کیا کہ کیا وہ عدالت کو کارروائی کے طریقہ کار سے متعلق ہدایات دے سکتے ہیں، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے، تاہم انہوں نے مزید مہلت کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور ان کی اپیلیں صرف چار ہفتے قبل ہی سماعت کے لیے مقرر ہوئی ہیں۔
انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ لطیف کھوسہ اور بیرسٹر علی ظفر سمیت دیگر وکلا کی جانب سے دائر اپیلیں بھی تاحال زیر التوا ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر عدالت نے اپیلوں کی سماعت کا فیصلہ کیا ہے تو کارروائی بھی جاری رہے گی۔
دریں اثنا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے جیل حکام کے خلاف توہین عدالت کی درخواست غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے نمٹا دی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ جیل انتظامیہ نے وکالت ناموں پر دستخط نہیں کروائے، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ دستخط مکمل ہو جانے کے بعد یہ معاملہ غیر مؤثر ہوچکا ہے۔