کبھی پاکستان کی صنعتی ترقی کی علامت سمجھی جانے والی پاکستان اسٹیل ملز اب قومی خزانے پر بھاری بوجھ بن چکی ہے، جہاں گزشتہ 16 برس کے دوران ادارے کا خسارہ 16 ارب روپے سے بڑھ کر 245 ارب روپے تک جا پہنچا ہے۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں پاکستان اسٹیل ملز میں سنگین مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا گیا ہے، جس کے مطابق ادارہ مالی بدانتظامی کی بدترین مثال بن چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2008-09 میں پاکستان اسٹیل ملز کا خسارہ 16 ارب 91 کروڑ روپے تھا، جو بڑھتے بڑھتے مالی سال 2022-23 میں 224 ارب روپے سے تجاوز کر گیا، جبکہ مجموعی خسارہ 245 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔
آڈٹ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ اسٹیل ملز کے 1929 رہائشی یونٹس اور متعدد قیمتی اراضی پر غیر قانونی قبضے موجود ہیں، جن کی واگزاری کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے جاسکے۔
رپورٹ میں مالی نظم و نسق اور انتظامی امور میں پائی جانے والی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے اصلاحی اقدامات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے۔