سپریم کورٹ نے جعلی ادویات بنانے اور انہیں بیرون ملک بھجوانے کے الزام میں نامزد ملزمان کی قبل از گرفتاری ضمانتوں میں آئندہ سماعت تک توسیع کرتے ہوئے ایف آئی اے سے کیس کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس ملک شہزاد اور جسٹس عقیل عباسی نے ضیا خالد سمیت تین ملزمان کی قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔
دوران سماعت ڈریپ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان جعلی ادویات تیار کرکے بیرون ممالک بھجوا رہے تھے جبکہ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اقوام متحدہ نے بھی ان ادویات کے حوالے سے تحریری طور پر آگاہ کیا تھا۔
عدالت نے ڈریپ کے وکیل کو ملزمان کے خلاف مزید شواہد پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ایف آئی اے سے کیس کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا اور ملزمان کی عبوری ضمانتوں میں آئندہ سماعت تک توسیع کر دی۔