"مجھے نہیں لگتا کہ ایسے مقدمات میں ہمیں حقیقی انصاف ملتا ہے۔ اگر ہم اپنے بچوں کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ان کے موبائل فون کے استعمال پر نظر رکھنی ہوگی کیونکہ فحش مواد تک رسائی بہت آسان ہوچکی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کے بارے میں ضرور آگاہ کریں۔ کسی بھی شخص کو بچوں کے بہت قریب آنے کی غیر ضروری اجازت نہ دیں، اور اگر آپ کا بچہ کسی کے بارے میں شکایت کرے تو اس کی بات کو سنجیدگی سے لیں اور اس پر یقین کریں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام والدین متحد ہو کر اپنے بچوں کے تحفظ کے لیے خود کردار ادا کریں، کیونکہ کوئی اور آ کر یہ ذمہ داری پوری نہیں کرے گا۔"
پاکستان میں بچوں کے ساتھ زیادتی اور تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات نے پورے ملک کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ سرگودھا کی ننھی منتہا، کراچی کی تین سالہ بچی اور حالیہ دنوں 14 سالہ لڑکی کے افسوسناک واقعے جیسے سانحات کے بعد معروف فیشن ڈیزائنر ماریہ بی نے بھی اس حساس معاملے پر اپنی آواز بلند کی ہے۔
ماریہ بی، جو سماجی اور خاندانی مسائل پر کھل کر اظہارِ خیال کرنے کے لیے جانی جاتی ہیں، نے والدین کے نام ایک ویڈیو پیغام میں بچوں کے تحفظ کے لیے چند اہم تجاویز پیش کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف قوانین پر انحصار کرنے کے بجائے والدین کو بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی تاکہ بچوں کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھنا، انہیں اچھے اور برے لمس کے فرق سے آگاہ کرنا، اجنبی یا غیر ضروری تعلقات سے محتاط رکھنا اور بچوں کی شکایت کو سنجیدگی سے لینا ہر والدین کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے۔
ماریہ بی کی اس ویڈیو پر سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آئیں۔ کئی صارفین نے ان کے مؤقف اور بچوں کے تحفظ کے لیے آواز اٹھانے کو سراہتے ہوئے ان کی ہمت کی تعریف کی، جبکہ بعض افراد کا کہنا تھا کہ والدین کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے سخت قوانین پر مؤثر عملدرآمد بھی ناگزیر ہے۔ کچھ صارفین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بچوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے اور انہیں آگاہی دینے ہی سے ایسے جرائم کی روک تھام ممکن بنائی جاسکتی ہے۔