سانحہ گل پلازہ کی تحقیقاتی رپورٹ، آتشزدگی کو حادثاتی قرار دے دیا گیا

image

پولیس نے سانحہ گل پلازہ مقدمے کے چالان کے ساتھ تحقیقاتی رپورٹ پراسیکیوشن کے حوالے کر دی ہے جس میں آتشزدگی کے واقعے کو حادثاتی قرار دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گل پلازہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ چالان کا حصہ نہیں بنائی گئی۔

تحقیقاتی رپورٹ میں پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جائے وقوعہ سے کسی قسم کے دھماکا خیز مواد کے شواہد نہیں ملے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آگ کسی دھماکے کے نتیجے میں نہیں بلکہ حادثاتی طور پر لگی۔

رپورٹ کے مطابق آگ کا آغاز گل پلازہ کی دکان نمبر 193 سے ہوا، جہاں دکاندار نعمت اللہ اکثر اپنی دکان اپنے 11 سالہ بیٹے حذیفہ کے سپرد کر کے چلا جاتا تھا۔ تحقیقات میں بتایا گیا کہ حذیفہ کی جانب سے ماچس کی تیلیاں جلانے اور پھینکنے سے دکان میں موجود مصنوعی پھولوں نے آگ پکڑ لی جو تیزی سے پوری عمارت میں پھیل گئی۔ اسی بنیاد پر دکاندار نعمت اللہ اور اس کے بیٹے حذیفہ کو غفلت اور لاپرواہی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے مقدمے میں ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ میں گل پلازہ کمیٹی کے صدر تنویر پاستا، نائب صدر عمار اسماعیل، جنرل سیکریٹری محمد امین اور جوائنٹ سیکریٹری محمد رمضان کو بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق تمام نامزد ملزمان مفرور ہیں۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سانحے میں مجموعی طور پر 72 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ چار لاشوں کی باقیات تاحال کسی نے وصول نہیں کیں۔

تحقیقات میں مارکیٹ انتظامیہ کی غفلت کو بھی سانحے کی شدت کی ایک بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کم عمر بچے کو دکان پر کام کرنے سے نہ روکنا مارکیٹ یونین کی غفلت تھی۔ آتشزدگی کے بعد نہ تو بروقت ریسکیو اداروں کو اطلاع دی گئی اور نہ ہی فوری امداد طلب کی گئی۔

مزید بتایا گیا کہ گل پلازہ کے تمام گیٹ بند تھے اور یونین کی جانب سے بروقت دروازے نہیں کھلوائے گئے جس کے باعث درجنوں افراد عمارت کے اندر پھنس گئے اور باہر نکلنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یونین کے صدر تنویر پاستا نے آتشزدگی کے دوران کے الیکٹرک کو فون کر کے بجلی بند کروائی جس سے عمارت میں اندھیرا چھا گیا اور پھنسے ہوئے افراد کے لیے محفوظ راستہ تلاش کرنا مزید مشکل ہو گیا۔

پولیس کی جانب سے تحقیقاتی رپورٹ پراسیکیوشن کو جمع کروا دی گئی ہے جبکہ کیس کی آئندہ قانونی کارروائی چالان اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھائی جائے گی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US