بابا کی لاش سامنے پڑی تھی، لیکن سب کی توجہ مومنہ پر تھی، رمشا اقبال نے شہرت کا دردناک پہلو بیان کر دیا

image

جب ہم ابو کو اسپتال لے کر پہنچے تو ہماری پوری توجہ ان کی جان بچانے پر تھی، لیکن اچانک اسپتال کے عملے اور کئی ڈاکٹرز کی توجہ علاج کے بجائے اس بات پر مرکوز ہو گئی کہ کیا واقعی یہ مومنہ اقبال ہیں۔ سب یہی پوچھ رہے تھے کہ کیا آپ مومنہ ہیں؟ افسوس کی بات یہ تھی کہ اس لمحے ہمارے والد ایک مریض تھے جنہیں فوری طبی امداد کی ضرورت تھی، ہمیں محسوس ہوا کہ طبی غفلت تھی کیونکہ لوگ مریض کو دیکھنے کے بجائے ایک مشہور اداکارہ کو دیکھنے میں زیادہ دلچسپی لے رہے تھے۔ یہ ہماری زندگی کے سب سے تکلیف دہ لمحات میں سے ایک تھا۔

پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی معروف اداکارہ مومنہ اقبال کی بہن رمشا اقبال نے حالیہ پوڈکاسٹ میں اپنی بہن کی شہرت کے ایسے تلخ پہلو سے پردہ اٹھایا ہے جس نے مداحوں کو بھی افسردہ کر دیا۔

رمشا اقبال نے گفتگو کے دوران بتایا کہ ان کے والد کا انتقال اچانک دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہوا تھا۔ وہ لمحہ ان کے پورے خاندان کے لیے انتہائی کربناک تھا لیکن اسپتال میں پیش آنے والے رویے نے اس دکھ کو مزید بڑھا دیا۔

ان کے مطابق جب مومنہ اقبال اپنے والد کو اسپتال لے کر پہنچیں تو وہاں موجود عملے اور بعض ڈاکٹرز کی توجہ مریض کے علاج سے زیادہ مومنہ اقبال کی شناخت پر مرکوز ہو گئی۔ رمشا کا کہنا تھا کہ اس غیر معمولی توجہ کے باعث ان کے والد کو بروقت اور مناسب طبی توجہ نہیں مل سکی جسے وہ طبی غفلت قرار دیتی ہیں۔

اس انکشاف کے بعد مومنہ اقبال نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ اداکارہ نے لکھا کہ شہرت نے انہیں زندگی میں بہت کچھ دیا لیکن اس کی ایک بھاری قیمت بھی انہیں اور ان کے خاندان کو ادا کرنا پڑی۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات ان کا پیشہ ان کے اپنے عزیزوں کے لیے بھی تکلیف اور آزمائش کا باعث بنا تاہم انہیں اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ ہے اور یقین ہے کہ وہی ہر معاملے میں انصاف کرنے والا ہے۔

مومنہ اقبال اور ان کی بہن کے یہ بیانات سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کئی افراد نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسپتالوں میں مریضوں کو ترجیح دینے اور ہر صورت پیشہ ورانہ ذمہ داری نبھانے کی ضرورت پر زور دیا جبکہ بعض صارفین نے اس واقعے کی مکمل حقیقت سامنے آنے کی اہمیت پر بھی بات کی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US