بلوچستان میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے علی مرتضیٰ کے والد نے واقعے سے متعلق اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے محرم کے دنوں میں بیٹے کو کوئٹہ جانے سے منع کیا تھا تاہم وہ اپنے سفر کے لیے پُرجوش تھا اور اپنی منصوبہ بندی کے مطابق روانہ ہو گیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی مرتضیٰ کے والد جمیل نے کہا کہ پیش آنے والا سانحہ انتہائی افسوسناک ہے اور دعا ہے کہ آئندہ کسی خاندان کو ایسے دکھ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت ان سے رابطے میں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ پہنچنے کے بعد علی مرتضیٰ مسلسل گھر والوں سے رابطے میں تھا اور خوشی سے اپنے سفر کی تفصیلات بتا رہا تھا۔ والد کے مطابق بعد میں ان کی بہو کی کال موصول ہوئی جس میں انہوں نے بتایا کہ انہیں گولیاں لگی ہیں اور کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود کوئی امدادی ٹیم ان تک نہیں پہنچی۔
جمیل نے دعویٰ کیا کہ ان کی زخمی بہو تقریباً پانچ گھنٹے تک موقع پر موجود رہی اور اس دوران اپنی بیٹی کو ہدایت کرتی رہی کہ اگر اس کی حالت مزید بگڑ جائے تو اپنی پھوپھو کو فون کرنا۔ ان کے مطابق صبح کے وقت ان کی بہو نے اپنی وصیت بھی لکھوانا شروع کر دی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ابتدا میں انہیں صرف گاڑی ملنے کی اطلاع دی گئی جبکہ کچھ دیر بعد معلوم ہوا کہ ان کی بہو اور بچیاں بھی مل گئی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حکومت سندھ کی جانب سے اب تک ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب مقتول علی مرتضیٰ کے کزن نے بھی ریسکیو کارروائی سے متعلق سرکاری مؤقف پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ متاثرہ خاندان کو دو گھنٹے کے اندر امداد فراہم کر دی گئی تھی۔ ان کے بقول علی مرتضیٰ، ان کی اہلیہ اور دیگر اہلِ خانہ رات تقریباً ایک بجے سے صبح پانچ بجے تک مدد کے منتظر رہے لیکن اس دوران کوئی ریسکیو ٹیم ان تک نہیں پہنچی۔
کزن نے مزید دعویٰ کیا کہ علی مرتضیٰ کی میت ائیر ایمبولینس کے ذریعے منتقل نہیں کی گئی بلکہ اہلِ خانہ نے خود اسے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی کارگو سروس کے ذریعے منتقل کیا۔
انہوں نے کہا کہ جب متعلقہ حکام سے امدادی کارروائی کے بارے میں استفسار کیا گیا تو انہیں بتایا گیا کہ اندھیرے میں کارروائی ممکن نہیں کیونکہ متعلقہ علاقہ نو گو ایریا ہے اور سورج طلوع ہونے سے پہلے وہاں جانا محفوظ نہیں۔
تاہم ان دعوؤں پر متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال کوئی تفصیلی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا، اس لیے متاثرہ خاندان کے بیانات کی سرکاری سطح پر تصدیق یا تردید ہونا ابھی باقی ہے۔