پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان نے جنگ بندی معاہدے کی مکمل پاسداری کی، تاہم بھارت اپنے وعدوں پر مکمل طور پر عمل کرنے میں ناکام رہا۔
منگل کے روز سندھ طاس معاہدے سے متعلق ایک بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے پانی کے حصے کا تحفظ ناگزیر ہے، کیونکہ دریائے سندھ پاکستان کے عوام، زراعت اور معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پانی صرف جغرافیے کا مسئلہ نہیں بلکہ خوراک، مستقبل اور زندگی سے جڑا ہوا معاملہ ہے، اس لیے اس کے تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
بلاول بھٹو نے خبردار کیا کہ سمندری راستوں یا آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنا عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن سندھ طاس معاہدے کی بحالی کے بغیر ممکن نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش نے یہ واضح کردیا ہے کہ اہم آبی گزرگاہوں میں رکاوٹیں عالمی معیشت پر کس قدر گہرے اثرات مرتب کرسکتی ہیں۔