لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق ہوگئے جبکہ کئی زخمی ہیں۔
پولیس کے مطابق واقعے کے فوری بعد ریسکیو ٹیموں نے امدادی کارروائیاں شروع کردیں عینی شاہدین کا کہنا ہے ٹیوشن سینٹر میں کئی بچے موجود تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق 35 سے زائد بچے ملبے تلے دب گئے تھے، تاہم اطلاع ملتے ہی ریسکیو عملے نے کارروائی کرتے ہوئے اب تک 28 بچوں اور استاد کو ملبے سے نکال کر اسپتال منتقل کردیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب بچے اکیڈمی میں ٹیوشن کلاسز میں مصروف تھے کہ اچانک ٹی آئرن گارڈر پر قائم چھت منہدم ہوگئی، جس کے نتیجے میں متعدد بچے ملبے تلے دب گئے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق زخمیوں میں ایک ٹیچر بھی شامل ہیں، جبکہ کئی بچوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور ملبے تلے دبے بچوں کو نکالنے کا عمل جاری رکھا گیا۔ ٹی ایچ کیو کاہنہ کے ایم ایس ڈاکٹر احسن کے مطابق اسپتال میں اب بھی 12 بچے زیر علاج ہیں۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق ایک منزلہ عمارت کی چھت پر تعمیراتی کام کے لیے مٹی کی بھرائی کی گئی تھی اور زیادہ وزن کے باعث چھت گری، غفلت برتنے پر دو مالکان سمیت 5 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے جن سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
لاہور میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچوں کی ہلاکت پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے نوٹس لیتے ہوئے آپریشن تیز کرنے اور ذمہ داران کے تعین کی ہدایت کی ہے، پولیس نے ٹیوشن سینٹر مالک سمیت 2 افراد گرفتار کرلیا، جن کے نام ریحان اور فیضان بتائے گئے ہیں۔
دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف نے بھی حادثے میں جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔