وفاقی اردو یونیورسٹی کے اساتذہ نے تنخواہوں، ہاؤس سیلنگ، میڈیکل، پینشن اور دیگر بقایاجات کی عدم ادائیگی کے خلاف کراچی پریس کلب کے باہر شدید احتجاجی مظاہرہ کیا اور گورنر ہاؤس کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں ریڈ زون میں داخل ہونے سے روک دیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ 26 ماہ سے ہاؤس سیلنگ، 4 ماہ سے پینشن اور 2 ماہ سے تنخواہوں سمیت دیگر بقایا جات ادا نہیں کیے گئے۔ انہوں نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ تنخواہوں کا جائز مطالبہ کرنے والے اساتذہ کو کروڑوں روپے ہرجانے کے لیگل نوٹسز بھیجے جا رہے ہیں اور خواتین اساتذہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔
مظاہرین نے یونیورسٹی کے چانسلر و صدرِ مملکت آصف علی زرداری، پرو چانسلر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز اختر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وفاقی اردو یونیورسٹی کے ان سنگین مالی و انتظامی مسائل کا فوری نوٹس لے کر اساتذہ کے جائز مطالبات حل کریں۔