40 سالہ گول کیپر سمیت وہ فٹبالرز جو ورلڈ کپ کے دوران اچانک وائرل ہو گئے

فیفا ورلڈ کپ 2026 میں وائرل ہونے والے یہ سٹارز رونالڈو یا میسی تو نہیں، مگر آن لائن شہرت حاصل کرنے کے بعد ممکن ہے ان کا مستقبل بھی مالی طور پر مستحکم اور محفوظ ہو جائے۔
کیپ وردے کے گول کیپر ووزینہا
Peter Joneleit/Icon Sportswire/Getty Images
کیپ وردے کے گول کیپر ووزینہا نے سپین کے خلاف سات شاندار گول روک کر اپنی ٹیم کو میچ میں برقرار رکھا اور راتوں رات انٹرنیٹ پر غیر معمولی شہرت حاصل کر لی۔

فٹ بال کی دنیا کا سب سے بڑا ایونٹ ’فیفا ورلڈ کپ 2026‘ اس وقت جاری ہے اور دنیا بھر میں شائقین اپنی پسندیدہ ٹیموں اور سٹار کھلاڑیوں کی کارکردگی کا ذکر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ورلڈ کپ میں کئی کھلاڑی اپنی شاندار کارکردگی کے باعث نہ صرف میدان میں توجہ کا مرکز بنے بلکہ سوشل میڈیا پر بھی ان کے مداحوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

کیپ وردے کے 40 سالہ گول کیپر ووزینہا کا نام بھی ایسے ہی چند کھلاڑیوں میں شامل ہے کہ جنھوں نے صرف 90 منٹ میں دنیا بھر میں غیر معمولی شہرت حاصل کی ہے اور انسٹاگرام پر اُن کے فالوورز کی تعداد این ایف ایل کے لیجنڈ ٹام بریڈی سے بھی زیادہ ہو گئی۔

گروپ میچز میں سپین کے خلاف ووزینہا کی شاندار کارکردگی کے باعث میچ بغیر کسی گول کے صفر صفر سے برابر رہا، جو ورلڈ کپ کی مضبوط ترین ٹیموں میں شمار ہونے والی سپین کے خلاف ایک بڑا اپ سیٹ تھا۔

اس میچ کے بعد ووزینہا کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد 50 ہزار سے بڑھ کر ایک کروڑ 73 لاکھ ہو گئی جو ٹام بریڈی کے ایک کروڑ 55 لاکھ فالوورز سے بھی زیادہ ہے۔

ورلڈ کپ کے دوران ووزینہا جیسے کھلاڑی سوشل میڈیا پر حاصل ہونے والی اس شہرت کو مالی فوائد کے حصول کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

تاہم میڈیا ماہر مائیک سیرازیو کا کہنا ہے کہ ’ایسے مواقع عارضی بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔‘ ان کے مطابق ’یہ وائرل ہونے کا معاملہ ہے جو جتنا تیزی سے اوپر جاتا ہے، اتنا ہی تیزی سے واپس نیچے بھی آ جاتا ہے۔‘

سوشل میڈیا پر مداحوں کی تعداد میں اتنا بڑا اضافہ برانڈز کے ساتھ شراکت داری اور اشتہارات میں بس ایک جھلک دکھانے اور اس کے عوض بڑا معاوضہ حاصل کرنے کے مواقع فراہم کر سکتا ہے۔

کارنیل یونیورسٹی کی ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا سکالر بروک ڈفی کے مطابق ’لاکھوں فالوورز رکھنے والے انفلوئنسرز ایک پوسٹ کے عوض چھ ہندسوں سے بھی زیادہ رقم کا مطالبہ کر سکتے ہیں یعنی معاملات لاکھوں میں پہنچ جاتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’فالوورز آج کے دور میں ایک ایسی کرنسی ہیں جو بہت اہمیت کے حامل ہیں اور زیادہ فالوورز عموماً زیادہ آمدنی کا باعث بنتے ہیں۔‘

سوشل میڈیا شہرت حاصل کرنے کا ایک مختلف راستہ

نیوزی لینڈ کی ٹیم کے ڈیفنڈر ٹم پین کو ورلڈ کپ سے قبل ایک ارجنٹائنی انفلوئنسر نے ’سب سے کم معروف‘ کھلاڑی قرار دیا تھا۔ آن لائن ’ایلسکارسو‘ کے نام سے معروف ویلن سکارسینی نے اپنے لاکھوں فالوورز سے اپیل کی کہ وہ ٹم پین کی مقبولیت بڑھانے میں اُن کی مدد کریں۔

ٹم پین بھی اس مہم میں بھرپور انداز سے شامل رہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پر اپنی سرگرمی بڑھائی اور متعلقہ انفلوئنسرز کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے۔ چند ہی دنوں میں ان کے انسٹاگرام فالوورز حیران کن رفتار سے بڑھے،اور ان کی تعداد تقریباً 5000 سے بڑھ کر 60 لاکھ کے قریب پہنچ گئے۔ ٹم پین نے خود بھی اس غیر معمولی اضافے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’اب ان کے فالوورز کی تعداد ان کے آبائی ملک نیوزی لینڈ کی آبادی سے بھی زیادہ ہو گئی ہے جو تقریباً 53 لاکھ ہے۔‘

کیپ وردے کے گول کیپر ووزینہا کے برعکس ٹم پین کو یہ نئی شہرت کسی میچ میں کارکردگی کی بدولت حاصل نہیں ہوئی۔

میڈیا اور کھیل کے باہمی تعلق پر تحقیق کرنے والے بوسٹن کالج کے پروفیسر مائیک سیرازیو کے مطابق کھیلوں کی دنیا میں یہ رجحان بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’گذشتہ پانچ سے دس سالوں میں ایسے کھلاڑیوں کا رجحان بڑھا ہے جن کی شہرت زیادہ تر سوشل میڈیا اور تشہیری سرگرمیوں کی وجہ سے ہوتی ہے، نہ کہ ان کی اصل کھیل کی صلاحیتوں کی بنیاد پر۔‘

مائیک سیرازیو کے مطابق ’قومی ٹیم تک پہنچنے والا ہر کھلاڑی غیر معمولی قابلیت رکھتا ہے، لیکن ماضی میں کسی کھلاڑی کو ٹی وی اشتہارات یا کسی پروڈکٹ کی پیکنگ پر جگہ بنانے کے لیے بہترین کھلاڑیوں میں شمار ہونا ضروری تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اب کھلاڑیوں کو روایتی میڈیا پر انحصار کرنے کی ضرورت پہلے جیسی نہیں رہی۔ وہ سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے اپنے فالوورز بڑھا رہے ہیں، برانڈز کے ساتھ معاہدے کر رہے ہیں، آمدنی میں اضافہ کر رہے ہیں اور اپنی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔‘

کیا ورلڈ کپ کے بعد بھی یہ شہرت برقرار رہے گی؟

مائیک سیرازیو کے مطابق اب کھیلوں کی نشریات کا انداز بدل رہا ہے اور توجہ طویل میچوں کے بجائے وائرل کلپس اور مختصر ویڈیوز پر منتقل ہو رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’پورے میچ میں آپ کی کارکردگی اب اتنی اہم نہیں رہی، جتنا ایک ایسا یادگار لمحہ اہم ہے جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو جائے اور وسیع پیمانے پر شیئر کیا جائے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’وائرل لمحے کی اہمیت زیادہ ہو گئی ہے اور اب وہ خود کھیل سے بھی زیادہ اہم بن چکا ہے۔‘

تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا ورلڈ کپ کے دوران لاکھوں نئے فینز حاصل کرنے والا کوئی کھلاڑی فٹ بال کے میدان سے باہر بھی اس شہرت کو ایک مستقل کیریئر میں تبدیل کر سکتا ہے یا نہیں۔

سیرازیو نے کہا کہ ’آپ کے پاس توجہ حاصل کرنے کا ایک محدود وقت ہوتا ہے۔ کیپ وردے کے گول کیپر کو پہلے کوئی نہیں جانتا تھا اور مجھے نہیں لگتا کہ ورلڈ کپ ختم ہونے کے بعد بھی لوگ انھیں یاد رکھیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ میسی، رونالڈو، نیمار اور ایمباپے جیسے بڑے نام ریٹائرمنٹ کے بعد بھی برانڈز کے ساتھ معاہدے کرتے رہیں گے۔ ان کے مطابق ایسے کھلاڑی بہت کم دیکھنے میں آئے ہیں جو کسی ایک بڑے لمحے سے ملنے والی شہرت کو اپنے بعد کے کیریئر میں کامیابی سے استعمال کر سکے ہوں۔

سوشل میڈیا کی طاقت اور اس سے حاصل ہونے والی مقبولیت کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی ایک نمایاں مثال امریکی رگبی کھلاڑی ایلونا ماہر ہیں، جن کی مقبولیت سنہ 2024 پیرس اولمپکس کے دوران غیر معمولی طور پر بڑھی۔ وہ اپنا پوڈکاسٹ چلاتی ہیں، مختلف برانڈز کی سفیر ہیں، سپورٹس الیسٹریٹڈ کے لیے ماڈلنگ کر چکی ہیں اور ٹی وی پروگرام ’ڈانسنگ ود دی سٹارز‘ میں رنر اپ بھی رہیں۔ سنہ 2025 میں انھوں نے بہترین ابھرتی ہوئی کھلاڑی کا اعزاز بھی حاصل کیا۔

بروک ڈفی کے مطابق ’سوشل میڈیا پر اچانک مقبول ہونے والے نئے ستاروں کے لیے مستقبل میں بھی مواقع موجود ہیں، لیکن اس سے ہونے والی آمدنی کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’سپانسرڈ پوسٹس کے معاوضے کا کوئی واضح معیار نہیں، جیسا کہ روایتی میڈیا مثلاً ٹی وی اشتہارات میں ہوتا ہے۔‘

ڈفی نے مزید کہا کہ ’مناسب آمدنی کے تعین کے لیے حفاظتی ضابطے بھی بہت کم ہیں۔‘ ان کے مطابق ’یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ فٹ بال سے وابستہ یہ کھلاڑی ڈیجیٹل میڈیا کی بدلتی ہوئی اور غیر واضح معیشت میں خود کو کس طرح ڈھالتے ہیں۔‘

فی الحال ورلڈ کپ کے یہ وائرل ستارے مقبولیت کے عروج پر ہیں، لیکن ٹورنامنٹ کے بعد ان کا مستقبل اس بات پر منحصر ہوگا کہ وہ اپنے نئے مداحوں کو کس حد تک اپنے ساتھ جوڑے رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US