کراچی میں منشیات کے خاتمے کے تمام تر حکومتی دعوے اس وقت دھرے کے دھرے رہ گئے جب باوثوق ذرائع سے یہ سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا کہ شہرِ قائد میں منشیات کا نیٹ ورک اب بالکل نئے طریقوں اور نئے موبائل نمبرز کے ذریعے آپریٹ کیا جا رہا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے یہ دھندا اب خفیہ ڈیجیٹل کوڈز کے ذریعے چلایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے نوجوان نسل تک زہر پہنچانے کا کالا کاروبار بلا روک ٹوک جاری ہے۔
ذرائع کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق اسمگلرز اور منشیات فروشوں کی جو ایک طویل اور خوفناک لسٹ موجود ہے، اس میں انمول پنکی کا نام تو بہت نیچے یعنی 60 سے 70 نمبر پر آتا ہے، جبکہ اس مارکیٹ میں اس سے کہیں زیادہ بااثر اور بڑے مگرمچھ موجود ہیں جو قانون کی گرفت سے دور دندناتے پھر رہے ہیں۔
اس پورے گٹھ جوڑ میں اکبر نامی شخص اور اس جیسے کئی دیگر بڑے نیٹ ورک آپریٹرز شامل ہیں جو الگ الگ گروپس کی شکل میں اپنے اپنے علاقوں کو کنٹرول کر رہے ہیں اور اپنے نیٹ ورکس کو محفوظ رکھنے کے لیے سیکیورٹی اداروں کو مسلسل چکمہ دے رہے ہیں۔ یہ بااثر گروپس پکڑے جانے والے کارندوں کو فوری طور پر نئے خفیہ نمبرز اور بیک اپ فراہم کرتے ہیں اور تمام تر لین دین کے لیے ڈیجیٹل پیمنٹس کا سہارا لے کر اس کالے دھندے کی سپلائی چین کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
کراچی کے مختلف علاقوں، خاص طور پر تعلیمی اداروں اور پوش ایریاز کے مضافات میں منشیات کی یہ نئی لہر ایک ہولناک صورتحال اختیار کرچکی ہے جس پر شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
عوامی حلقوں نے آئی جی سندھ اور ڈی جی رینجرز سے فوری اور بلا امتیاز کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر واقعی کراچی کو اس زہر سے پاک کرنا ہے تو لسٹ میں نیچے موجود ناموں کے بجائے اکبر جیسے بڑے نیٹ ورک آپریٹرز اور مارکیٹ کے اصل سرغناؤں پر ہاتھ ڈالنا ہوگا ورنہ یہ نیٹ ورکس اسی طرح الگ الگ ناموں اور نمبروں سے شہر کو تباہ کرتے رہیں گے۔
دوسری جانب کراچی کی اینٹی نارکوٹکس فورس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انمول عرف پنکی سے کی جانے والی تحقیقات میں ملک گیر سطح پر منشیات سپلائی کرنے والے ایک انتہائی منظم نیٹ ورک کا پردہ چاک ہوا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ گروہ کے خلاف گھیرا تنگ کیا جارہا ہے اور بہت جلد بڑی کامیابی ملنے کی توقع ظاہر کی جارہی ہے۔