آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ممبران کو 2 کروڑ 86 لاکھ روپے سے زائد کی خلاف ضابطہ ادائیگیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پی ٹی اے کے اندر مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں ممبران کی جانب سے اپنی میڈیکل پالیسی، مراعات اور الاؤنسز کی خود منظوری بھی شامل ہے۔
آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غیر مجاز مراعات کی مد میں ایک کروڑ 15 لاکھ روپے سے زائد کی ادائیگیاں کی گئیں جبکہ تنخواہوں کی غلط فکسیشن کے باعث 71 لاکھ روپے سے زائد اضافی رقم ادا کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق ان بے ضابطگیوں کے نتیجے میں قومی خزانے کو مالی نقصان پہنچا جس پر متعلقہ حکام سے وضاحت اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں مالی نظم و ضبط کو بہتر بنانے اور مستقبل میں ایسی بے قاعدگیوں کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔