ہیومن رائٹس کونسل پاکستان کے چیئرمین جمشید حسین نے کراچی پریس کلب میں سانحہ گل پلازہ کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ گل پلازہ کی انتظامی غلطیوں پر حکومت سندھ کی خاموشی انتہائی باعث تشویش ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ تعمیراتی منظوری کے مطابق پلازہ میں دکانوں کی تعداد محدود تھی، تاہم بعد میں اس میں مبیّنہ طور پر اضافہ کیا گیا جس کے باعث ہنگامی اخراج کے راستے متاثر ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فائر بریگیڈ کے عملے کے پاس مطلوبہ حفاظتی آلات اور مکمل تربیت کی کمی تھی۔
جمشید حسین نے مطالبہ کیا کہ تمام معاملات کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے محمد ہمایوں خان کو فوری طور پر عہدے سے ہٹایا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ سانحہ گل پلازہ کے ذمہ دار تمام افراد اور متعلقہ سرکاری افسران کے خلاف قانون کے مطابق مقدمات درج کر کے کارروائی کی جائے اور واقعے کی مکمل انکوائری کے لیے ایک آزاد جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے۔
چیئرمین ہیومن رائٹس کونسل نے مزید کہا کہ جسٹس آغا فیصل کی انکوائری کمیشن رپورٹ کو عوام کے سامنے لایا جائے تاکہ حقائق واضح ہوسکیں، جبکہ عوامی وسائل کے ممکنہ غلط استعمال کی فرانزک تحقیقات کروا کر قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کیا جائے۔