نعیم بخاری کا بیمار والدین سے متعلق بیان، سوشل میڈیا پر شدید تنقید

image

میری رائے میں انسان کو چند لمحوں میں دنیا سے رخصت ہو جانا چاہیے۔ اگر کوئی شخص شدید بیماری کے باعث بستر پر پڑا رہے تو وہ اپنے لیے بھی اور اپنے گھر والوں کے لیے بھی بہت مشکل صورتحال بن جاتا ہے۔ اگر میں خود کبھی مکمل طور پر بستر تک محدود ہو گیا تو شاید میں زندگی ختم کرنے کا راستہ اختیار کرنے کے بارے میں سوچوں۔

میرے والد صرف چند سیکنڈ میں دنیا سے رخصت ہو گئے تھے۔ میں نے ایک ساتھی کے والد کو طویل عرصے تک بیماری کے باعث بستر پر دیکھا تو میرے ذہن میں آیا کہ انسان کے لیے ایسی زندگی بہت کٹھن ہوتی ہے۔

پاکستان کے معروف وکیل اور سیاسی تجزیہ کار نعیم بخاری زندگی، بڑھاپے اور موت سے متعلق گفتگو کے بعد سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔ وہ میزبان مہنور لیلا کے پروگرام میں بطور مہمان شریک ہوئے جہاں انہوں نے والدین کی بیماری اور طویل عرصے تک بستر پر رہنے کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

نعیم بخاری نے گفتگو کے دوران کہا کہ شدید بیماری میں مبتلا شخص کے لیے بستر پر رہنا اور دوسروں پر انحصار کرنا ایک تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے۔ تاہم ان کے الفاظ اور انداز کو متعدد صارفین نے نامناسب اور بے حسی پر مبنی قرار دیا خاص طور پر اس لیے کہ بات بیمار اور عمر رسیدہ والدین کی دیکھ بھال کے تناظر میں کی گئی تھی۔

ان کے بیان کے بعد ویڈیو کلپس مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے لگے جہاں صارفین نے زندگی اور موت کو اللہ کی مرضی قرار دیتے ہوئے ان کے مؤقف سے اختلاف کیا۔ بعض افراد کا کہنا تھا کہ بیمار والدین کی خدمت کسی بوجھ کے بجائے اولاد کے لیے سعادت اور آزمائش دونوں ہو سکتی ہے۔

ایک صارف نے لکھا یہ سوچ درست نہیں، زندگی اور موت اللہ کے اختیار میں ہے۔ ایک اور صارف کا کہنا تھا بیمار والدین کی دیکھ بھال نعمت ہے جس کی اہمیت شاید ہر کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ایک صارف نے تبصرہ کیا، یہ طرز فکر ہی غلط ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری بحث میں بعض افراد نے یہ بھی کہا کہ طویل بیماری اور تکلیف سے متعلق گفتگو حساس انداز میں ہونی چاہیے کیونکہ ایسے حالات سے گزرنے والے مریض اور ان کے اہل خانہ پہلے ہی جسمانی، ذہنی اور جذباتی دباؤ کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US