پاکستانی ٹک ٹاکر علی حیدرآبادی اور ان کی اہلیہ زینب کے درمیان علیحدگی سے متعلق معاملہ سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ علی حیدرآبادی کی ایک اور ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ یہ میری پہلی اور آخری ویڈیو ہے۔ میں اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ یہ ہمارا گھریلو مسئلہ ہے، لیکن جب میرے خلاف ویڈیوز بننے لگیں اور زینب کی جانب سے یہ کہا گیا کہ میں نے ان کی انگلی توڑی ہے تو مجھے وضاحت دینا ضروری لگا۔
جو طلاق سے متعلق ویڈیو وائرل ہوئی ہے، اس میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ میں نے انہیں ہاتھ نہیں لگایا۔ میں نے وہ ویڈیو اس لیے بنائی تھی کیونکہ مجھے خوف تھا کہ کسی دن میرے خلاف کوئی ویڈیو استعمال کر کے مجھے بلیک میل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ میں قرآن پاک ہاتھ میں لے کر کہتا ہوں کہ میں نے ان پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔
ویڈیو کے آخر میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ میرا موبائل فون لینے کی کوشش کی جا رہی تھی کیونکہ میں ویڈیو ریکارڈ کر رہا تھا اور فون اپنے ساتھ لے جا رہا تھا۔ میرے کپڑے، شاپنگ بیگز اور دوسری چیزیں بھی زمین پر موجود تھیں۔ ویڈیو شروع ہونے سے پہلے ہی مجھے گھر سے نکالنے کا فیصلہ کیا جا چکا تھا۔
یہ درست ہے کہ میں ان کے گھر میں رہتا تھا لیکن مجھے وہاں رہنے کی دعوت دی گئی تھی۔ اس سے پہلے میں نے پانچ مرلے کا گھر کرائے پر لیا، مگر وہ وہاں رہنا نہیں چاہتی تھیں۔ پھر میں نے فلیٹ لیا وہ بھی انہیں پسند نہیں آیا۔ میں انہیں حیدرآباد لے جانا چاہتا تھا مگر وہ وہاں جانے کے لیے تیار نہیں تھیں۔ میں نے تین سال تک ان کی خواہش کے مطابق معاملات چلانے کی کوشش کی لیکن اس دوران ہمارے درمیان کئی جھگڑے بھی ہوئے۔
اب مجھ پر دھمکیاں دینے اور انگلی توڑنے کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ میں قرآن پاک ہاتھ میں لے کر کہتا ہوں کہ نہ میں نے انہیں دھمکی دی اور نہ ان کی انگلی توڑی۔ میں اس معاملے کو عوامی نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن ویڈیوز سامنے آنے کے بعد مجھے جواب دینا پڑا۔ اگر کسی ادارے نے مجھے بلایا تو میں اپنے پاس موجود ثبوت دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہوں۔
علی حیدرآبادی، جن کے ٹک ٹاک پر تقریباً 2 کروڑ 10 لاکھ فالوورز ہیں، مارچ 2023 میں شادی کے بندھن میں بندھے تھے اور ان کی شادی کی تصاویر اور ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر خاصی وائرل ہوئی تھیں۔
گزشتہ روز ایک ویڈیو گردش کرنے لگی جس میں علی حیدرآبادی کو اپنی اہلیہ کو طلاق دیتے ہوئے دیکھا گیا۔ ویڈیو میں وہ یہ کہتے سنائی دیے کہ وہ اب اپنی اہلیہ سے نہیں ملیں گے۔ کلپ کے آخر میں زینب ان کی طرف بڑھتی دکھائی دیں، جس کے بعد ویڈیو بند ہو گئی۔
بعد ازاں زینب کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ علی حیدرآبادی نے ان کی انگلی فریکچر کر دی۔ اس الزام کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں اور صارفین دونوں فریقوں سے وضاحت کا مطالبہ کرنے لگے۔
علی حیدرآبادی نے اب اپنی ویڈیو جاری کرتے ہوئے جسمانی تشدد، دھمکی دینے اور انگلی توڑنے کے تمام الزامات کی تردید کر دی ہے۔ انہوں نے قرآن پاک ہاتھ میں لے کر کہا کہ وائرل ویڈیو میں کسی قسم کے تشدد کا ثبوت موجود نہیں اور وہ کسی بھی متعلقہ ادارے کے سامنے اپنے مؤقف اور شواہد پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے، تاہم دونوں فریقوں کے الزامات اور جوابات کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آ سکی۔ ایسے گھریلو تنازعات میں مکمل حقائق جاننے کے لیے متعلقہ فریقوں کے بیانات اور قانونی یا ادارہ جاتی تحقیقات کا انتظار ضروری ہوتا ہے۔