سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ میں کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں مبینہ غفلت کے باعث بچوں میں ایچ آئی وی (ایڈز) پھیلنے کے کیس کی سماعت ہوئی، جہاں متاثرہ خاندانوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اسپتال میں استعمال شدہ سرنجز کے مبینہ دوبارہ استعمال سے معصوم بچوں میں یہ مہلک مرض پھیلا، جس کے باعث اب تک 9 بچے جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ سیکڑوں اس مرض میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بچوں کی ہلاکت کو 8 ماہ گزرنے کے باوجود حکومت نے کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی اور نہ ہی معاملے کی ایف آئی آر درج کی جا رہی ہے۔
بینچ کے سربراہ جسٹس عدنان الکریم میمن نے وکیل کو نظم و ضبط برقرار رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ عدالت قانون اور طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ہی کارروائی کرے گی اور فریقین کا جواب آنے پر ہی کسی نتیجے پر پہنچے گی۔
عدالت نے متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی کا یقین دلاتے ہوئے حکومتِ سندھ اور دیگر متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کردیے ہیں اور دو ہفتوں میں تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 20 جولائی تک ملتوی کردی ہے۔