دفتر خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف 3 سے 5 جولائی تک ایران اور ترکیہ کے سرکاری دورے کریں گے، جہاں وہ اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں کے علاوہ اہم تقریبات میں بھی شرکت کریں گے۔
ترجمان کے مطابق وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وفاقی وزرا اور اعلیٰ حکام بھی ہوں گے۔ وزیراعظم ایران میں مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ اور تدفین کی تقریبات میں شرکت کریں گے اور پاکستانی عوام و حکومت کی جانب سے ایرانی قیادت اور سوگوار خاندانوں سے اظہارِ تعزیت کریں گے۔
ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم بعد ازاں ترک صدر رجب طیب اردوان کی دعوت پر استنبول جائیں گے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی امن اور سیکیورٹی سمیت دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت ہوگی۔
استنبول میں وزیراعظم ایک بزنس کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے، جس میں پاکستان کے خصوصی اقتصادی زونز، توانائی، آئی ٹی اور نجکاری کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع اجاگر کیے جائیں گے۔ کانفرنس میں ترک سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کی بڑی تعداد شریک ہوگی۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ دوحہ میں پاکستانی اور قطری حکام نے ایرانی اور امریکی مذاکراتی وفود سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں مثبت پیش رفت ہوئی اور فریقین نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
ترجمان نے کہا کہ سابق ایرانی سپریم لیڈر کی تدفین کی رسومات کے بعد مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ کا تعین کیا جائے گا اور پاکستان اس عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا۔
ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان نے ایک بار پھر بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو غیر قانونی، یکطرفہ اور بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پانی کو سیاسی دباؤ یا جبر کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا اور پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ کراچی دہشت گرد حملے کے بعد افغان ناظم الامور کو طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا ہے، جبکہ افغان شہریوں کے بغیر ویزا پاکستان میں قیام کے خلاف 10 جولائی سے کریک ڈاؤن کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان نے پہلی مرتبہ بین الاقوامی زیتون کونسل کی مستقل رکنیت حاصل کرلی ہے، جسے ملک کے زیتون کے شعبے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔