سوات کے ڈپٹی کمشنر سہیل احمد خان نے کہا ہے کہ سیف اللہ جھیل میں پیش آنے والے المناک حادثے میں ملوث کشتی چلانے والے کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق سیاحوں کو حفاظتی جیکٹس کے بغیر کشتی میں سوار کیا گیا، حالانکہ گزشتہ ایک ماہ سے دفعہ 144 نافذ تھی اور دریا میں کشتی رانی پر مکمل پابندی عائد تھی۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے حفاظتی اقدامات اور پابندیوں پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایات جاری کی گئی تھیں، تاہم ان کی خلاف ورزی کے باعث یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔