وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ جیل میں گزارے گئے اپنے ذاتی تجربات کی بنیاد پر صوبے میں جیل اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں تاکہ قیدیوں کو بہتر سہولیات اور انسانی حقوق کے مطابق ماحول فراہم کیا جاسکے۔
جیل اصلاحات کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ وہ اس فورم پر کوئی سیاسی بات نہیں کرنا چاہتیں، تاہم انہوں نے خود جیل کاٹی ہے اور وہاں جو کچھ دیکھا، اسی کی روشنی میں اصلاحات کیں۔
انہوں نے بتایا کہ دورانِ قید ایک روز ان کی شوگر اچانک کم ہوگئی تھی اور مدد کے لیے آواز لگانے کے باوجود کوئی نہیں آیا۔ ان کے مطابق ایک بوتل میں گڑ موجود تھا جو گر کر ٹوٹ گئی، جس کے بعد انہیں ٹوٹی ہوئی بوتل سے گڑ کھانا پڑا، جس میں کانچ بھی شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسی تجربے کے پیشِ نظر جیلوں میں ایمرجنسی پینک بٹن کا نظام متعارف کروایا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ وہ اپنی والدہ کے آخری وقت میں ان سے ملاقات نہ کرسکیں اور آج ان کی والدہ کی سالگرہ ہے۔ انہوں نے اپنی والدہ کا قول دہراتے ہوئے کہا کہ ”جس تن لاگے سو تن جانے“ اور ان پر جو گزری، اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے جیل اصلاحات نافذ کی گئیں۔
مریم نواز نے مزید کہا کہ وہ 24 گھنٹے قیدِ تنہائی میں رہیں، جہاں صرف کھانا دروازے پر رکھ کر دستک دی جاتی تھی۔ ان کے مطابق کمرے کے آدھے حصے کو بغیر کسی پارٹیشن کے واش روم بنا دیا گیا تھا، جس کی وجہ سے انہیں جائے نماز رکھنے میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
کانفرنس سے خطاب سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبے میں جیل اصلاحات سے متعلق ایک دستاویزی فلم بھی شرکاء کو دکھائی۔