میں نے سوچا کہ آج لوگوں سے ایک ضروری بات کروں۔ پاکستان کے شمالی علاقے اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہیں، ہمیں ان مقامات کو صاف رکھنا چاہیے۔ وہاں جگہ جگہ کچرا دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔ ٹریک پر چلتے ہوئے پلاسٹک کی بوتلیں، چپس کے پیکٹ، خالی ریپرز اور مختلف چیزیں بکھری ہوئی تھیں۔ کچرا اتنا زیادہ تھا کہ یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا۔
میں نے مری میں بھی یہی صورتحال دیکھی، جہاں پلاسٹک کے تھیلے اور کوڑا جگہ جگہ پڑا تھا۔ اللہ نے ہمیں اتنے خوبصورت علاقے دیے ہیں لیکن ہم ان کی قدر کیوں نہیں کرتے؟ لوگ پکنک کے بعد باہر بہت سا کچرا چھوڑ جاتے ہیں۔ میں نے کچھ لوگوں کو میز پر بچا ہوا کھانا بھی باہر پھینکتے دیکھا۔ میں نے ان سے کہا کہ اسے یہاں کیوں پھینک رہے ہیں، یہاں بڑا ڈسٹ بن کیوں نہیں رکھا جاتا تاکہ لوگ اپنا کچرا اس میں ڈال سکیں؟ مجھے وہاں ایک بھی ڈسٹ بن نظر نہیں آیا، یہ منظر واقعی دل دکھانے والا تھا۔
پاکستانی ٹی وی میزبان، پروڈیوسر اور سابق اداکارہ ندا یاسر نے شمالی علاقوں کے سفر کے بعد وہاں پھیلتے کچرے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی حسن سے بھرپور علاقوں کو سیاحوں اور متعلقہ اداروں دونوں کی توجہ اور ذمہ داری کی ضرورت ہے۔
ندا یاسر حال ہی میں اپنی دونوں بہنوں کے ساتھ سیر و تفریح کے لیے پاکستان کے شمالی علاقوں گئی تھیں۔ واپسی کے بعد انہوں نے اپنے مارننگ شو میں دوران سفر کے مشاہدات بیان کیے اور لوگوں سے اپیل کی کہ پہاڑوں، جھیلوں، ٹریکنگ پوائنٹس اور پکنک مقامات پر صفائی کا خیال رکھا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاحتی مقامات پر پلاسٹک کی بوتلیں، کھانے پینے کے ریپرز اور تھیلے کھلے عام پھینکے جانے سے قدرتی ماحول متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سیاحوں کو اپنا کچرا واپس ساتھ لے جانا چاہیے یا مناسب جگہ پر تلف کرنا چاہیے۔
ندا یاسر نے انتظامیہ سے بھی مطالبہ کیا کہ شمالی علاقوں اور مری جیسے مصروف سیاحتی مقامات پر زیادہ تعداد میں بڑے ڈسٹ بن رکھے جائیں تاکہ لوگوں کو کچرا پھینکنے کے لیے مناسب سہولت میسر ہو۔ ان کے مطابق صرف خوبصورت مقامات کی تعریف کافی نہیں، انہیں صاف رکھنا بھی ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔