تہران میں سابق ایرانی رہبر اعلیٰ کی آخری رسومات: انڈیا کی جانب سے نچلی سطح کا وفد بھیجنے کے کیا معنی ہیں؟

ایران کے سابق رہبر اعلی سید علی خامنہ ای کے جنازے اور تدفین کی سات روزہ تقریبات میں جہاں دنیا بھر سے اہم شخصیات اور سربراہان مملکت شرکت متوقع ہے وہیں انڈین وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ بہار کے گورنر سید عطا حسنین اور وزیر مملکت برائے امور خارجہ پبِترا مارگریٹا انڈیا کی جانب سے سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے تین جولائی کو ایران جائیں گے۔
خامنہ ای جنازہ میں انڈین وفد
AFP via Getty Images

ایران کے سابق رہبر اعلی سید علی خامنہ ای کے جنازے اور تدفین کی سات روزہ تقریبات میں جہاں دنیا بھر سے اہم شخصیات اور سربراہان مملکت شرکت متوقع ہے وہیں انڈین وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ بہار کے گورنر سید عطا حسنین اور وزیر مملکت برائے امور خارجہ پبِترا مارگریٹا انڈیا کی جانب سے سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے تین جولائی کو ایران جائیں گے۔

جمعرات کو جاری کیے گئے ایک بیان میں وزارت نے کہا کہ اس اعلیٰ سطح وفد کی موجودگی دونوں ملکوں کے درمیان دیرینہ تہذیبی تعلقات اور عوام سے عوام کے مضبوط روابط کی عکاسی کرتی ہے۔ یہی تعلقات انڈیا اور ایران کے درمیان سیاسی اور اقتصادی تعاون کی اہم بنیاد ہیں۔‘

اطلاعات کے مطابق انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی اس موقعے پر مدعو کیا گیا تھا لیکن انڈیا کی جانب سے شمال مشرقی ریاست بہار کے مسلم گورنر سید عطا حسنین کی قیادت میں ایک وفد ان رسومات میں شرکت کر رہا ہے۔ تاہم ایران کی طرف سے انڈین وزیر اعظم کو دیے جانے والے ایسے کسی دعوت نامے کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

علاوہ ازیں،‎ کانگریس کے کئی سرکردہ رہنماؤں کی بھی اس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے جن میں انڈین نیشنل کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے، معروف کانگریس لیڈر سلمان خورشید اور کانگریس پارٹی کے قومی ترجمان پون کھیڑا شامل ہیں۔

تاہم حال میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں انڈیا اور ایران کے روابط اپنی کم سطح پر نظر آ رہے ہیں اور اس کی بظاہر وجہ انڈیا کا اسرائیل اور امریکہ کی جانب واضح جھکاؤ بتایا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں سے صرف دو دن قبل اسرائیل کے دورے پر تھے اور نئی دہلی نے 28 فروری کو ان حملوں میں علی خامنہ ای کی ہلاکت کی مذمت بھی نہیں کی تھی۔

خامنہ ای جنازہ
Getty Images

انڈیا میں اپوزیشن جماعت کانگرس نے اس معاملے پر بی جے پی کی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بھی بنایا تھا۔

یکم اپریل کو ایک بیان میں کانگرس کے ترجمان پون کھیرا نے کہا تھا کہ ان کی جماعت ’ایران کے خلاف غیر قانونی جنگ اور رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت پر وزیرِ اعظم مودی کی مجرمانہ خاموش کی مذمت کرتی ہے۔‘

بی جے پی حکومت کی جانب سے ان الزامات کا باضابطہ جواب تو نہیں دیا گیا لیکن وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے اراکینِ پارلیمان کو بتایا تھا کہ ’انڈیا امن کا حامی ہے‘ اور وزیرِ اعظم مودی نے صدر ٹرمپ سے اپنی بات چیت میں درخواست کی ہے کہ وہ اس جنگ کو جلد از جلد ختم کریں کیونکہ اس سے پوری دنیا کی معیشت پر اثر پڑ رہا ہے۔

Modi and Netanyahu
Getty Images

سلمان خورشید نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملکارجن کھرگے آخری رسومات میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’کانگریس کے صدر وہاں جانے سے قاصر ہیں، اور انھوں نے خاص طور پر مجھے اپنی اور کانگریس پارٹی دونوں کی نمائندگی کے لیے نامزد کیا ہے۔ میں اس ذمہ داری کو نبھاوں گا۔ میں شام 4 بجے ایک خصوصی پرواز سے روانہ ہوں گا اور میں آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات سے منسلک تمام تقریبات میں شرکت کی توقع کرتا ہوں۔‘

جہاں ایران کی جانب سے ان سیاسی رہنماؤں کو دعوت دی گئی ہے وہیں ملک میں سرکردہ شیعہ شخصیات کو بھی مدعو کیا گيا ہے۔ خیال رہے کہ ایران کے بعد انڈیا پاکستان میں شیعہ برادری کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

لیکن دی ہندو کی ایک رپورٹ کے مطابق دو کشمیری شیعہ علما کو ایران کا سفر کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ انھیں ایرانی بین الاقوامی تعلقات کے محکمے نے مقتول رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کی دعوت دی تھی۔

رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعان کے صدر آغا سید حسن الموسوی الصفوی کو جمعرات کو بیورو آف امیگریشن نے روک دیا۔

تنظیم کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’اہلکاروں نے ان کا پاسپورٹ ضبط کر لیا، اور تمام مطلوبہ سفری دستاویزات بشمول ایک درست پاسپورٹ، ویزا اور تصدیق شدہ سفری انتظامات کے باوجود انھیں پرواز میں سوار ہونے سے روک دیا۔‘

ترجمان نے یہ بھی کہا کہ انھیں روکے جانے کی نہ تو وضاحت دی گئی اور نہ ہی تحریری وجہ بتائی گئی۔

ایک اور شیعہ عالم مسرورعباس انصاری کو بھی ’پاسپورٹ دینے سے انکار‘ کر دیا گیا۔

انھوں نے اس موقعے پر کہا کہ ’آج میرا دل بہت افسردہ خاطر ہے، مجھے شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تقریبات میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہوا ہے۔ کسی بھی عقیدت مند اور مداح کے لیے ایسے تاریخی اور جذباتی موقع پر موجود ہونا ایک بہت بڑا اعزاز ہوتا ہے اور یہ زندگی میں ایک بار ہی میسر ہونے والی نعمت ہوتی۔‘

خیال رہے کہ کشمیر کی سابق وزیر اعلی اور پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی کو بھی تدفین کی رسومات میں شرکت کی دعوت ملی ہے اور پارٹی ذرائع سے پتا چلا ہے کہ وہ اس میں شرکت کی خواہاں ہیں۔

حکومت ہند کی نمائندگی کرنے والی اعلیٰ سطحی قیادت کی عدم موجودگی پر سوشل میڈیا پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

Khamenei
Getty Images

بین الاقوامی امور کی کوریج کرنے والی سینیئر صحافی سمیتا شرما نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا ’جب ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں وفات ہوئی تھی تو اس وقت کے نائب صدر جگدیپ دھنکھر کو ان کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے بھیجا گیا تھا۔ میری رائے میں انڈیا کو اس موقعے پر ایک وزیر کابینہ کو بھیجنا چاہیے تھا۔‘

اسی طرح کانگریس رہنما ششی تھرور نے خبر رساں ادارے اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میری دلیل ہے کہ عام طور پر جب ایسے بڑے رہنما جو کہ روحانی پیشوا ہوتے ہیں، وفات پاتے ہیں، تو تعزیت کی زیادہ بلند سطح کا اظہار کیا جا سکتا تھا اور ہونا چاہیے تھا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ سچ ہے کہ اب ایک وفد جا چکا ہے۔ کانگریس پارٹی کی نمائندگی میرے اچھے دوست سلمان خورشید اور دیگر بھی کر رہے ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ ایسی صورتحال میں ہمیں ہمیشہ ان مرحومین کا احترام کرنا چاہیے جو اتنے اہم مقام پر فائز ہیں۔۔۔ حتیٰ کہ مدر ٹریسا کی آخری رسومات میں اور راجیو گاندھی کے قتل کے بعد ہم نے عالمی رہنماؤں کو انڈیا آتے دیکھا۔‘

ان کے مطابق ’یہ ایک عام عمل ہے۔ دنیا بھر کے ممالک کے لیے جانا اور تعزیت کا اظہار کرنا اور مرحوم کی روح کو تعزیت دینا ایک بہت ہی معمول کی بات ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں اس سے بڑا سیاسی مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔‘

انڈیا سفارتی تنہائی کا شکار

اس بابت بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سینٹر فار پرشیئن اور سینٹرل ایشین سٹڈیز کے پروفیسر اخلاق احمد نے بتایا کہ سیاسی جغرافیے تو بدلتے رہتے ہیں لیکن ثقافتی اور تہذیبی جغرافیے میں تبدیلی بہت کم آتی ہے۔ اس لحاظ سے انڈیا اور ایران کا قدیمی قریبی تعلق رہا ہے اور رہے گا لیکن گذشتہ کئی دہائیوں سے ممالک اپنی اپنی قومی ترجیحات کی بنیاد پر رشتوں کو استوار کر رہے ہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ چند برسوں میں انڈیا سفارتی تنہائی کا شکار نظر آتا ہے جبکہ پڑوسی ملک نے اس کا فائدہ اٹھایا ہے اور ایران کے تعلق سے وہ پیش پیش نظر آتا ہے۔ لیکن جہاں تک آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی رسومات میں شرکت کی بات ہے تو حزب اختلاف کی جانب سے شرکت بھی انڈیا کی ہی جانب سے شرکت کا حصہ ہے۔

وہیں انڈین تھنک ٹینک انڈین کونسل آف ورلڈ افیئرز میں سینٹرل ایشیا کے امور پر نظر رکھنے والے سینیئر فیلو فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ ہم انڈیا ایران کے رشتے کو تہذیبی، ثقافتی اور تاریخی کہتے ہیں لیکن گذشتہ 40 برسوں سے جب سے دنیا کی سپر پاور کی سمت بدل گئی، ترجیحات بدل گئيں ہیں اور یہ سب چیزیں معنی نہیں رکھتیں۔ انڈیا نے بھی اپنے قومی مفادات کے تحت اقدام کیے ہیں۔

مودی
Getty Images

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے ایران کے خلاف کیے گئے حملوں سے صرف دو دن پہلے اسرائیل کا دورہ کیا تھا اور انڈیا نے 28 فروری کو ہونے والے حملوں میں علی خامنہ ای کی ہلاکت کی مذمت نہیں کی تھی۔

اس کے برعکس پاکستان سمیت کئی ممالک نے خامنہ ای کے قتل کی کھل کر مذمت کی تھی۔

تاہم بعد میں انڈین وزارت خارجہ نے تعزیتی کتاب پر دستخط کرنے اور خامنہ ای کی موت پر انڈیا کے غم کا اظہار کرنے کے لیے ایرانی سفارت خانے کا دورہ کیا۔

انڈیا میں حزب اختلاف کی جماعت کانگریس نے بھی اس معاملے پر بی جے پی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

یاد رہے کہ وزیرِ اعظم مودی کی حکومت پر علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کا دباؤ صرف تجزیہ کاروں کی جانب سے نہیں آ رہا بلکہ کئی انڈین سیاستدان بھی سمجھتے ہیں کہ انڈیا کو اس موقع پر تہران میں اپنی شرکت یقینی بنانی چاہیے تھی۔

چند روز قبل انڈین پارلیمنٹ کے رکن اسد الدین اویسی نے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے ’وزیرِ اعظم کو جانا چاہیے۔‘

’کیونکہ وزیرِ اعظم نے اسرائیل میں کھڑے ہو کر کہا تھا کہ میں اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہوں، تو وزیرِ اعظم کو اب ایران کے پاس بھی جانا چاہیے۔‘

’ہماری خارجہ پالیسی یہ رہی ہے کہ ہم سب کے ساتھ رہتے ہیں۔ ہم اپنے ملک کا فائدہ دیکھتے ہیں۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US