وزیراعظم شہباز شریف کی ترک سرمایہ کاروں کو پاکستان میں مزید سرمایہ کاری کی دعوت

image

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ترکیہ کے سرکردہ کاروباری گروپوں اور صنعتی تنظیموں کے عہدیداران سے ملاقاتوں میں پاکستان میں توانائی، کان کنی، انفراسٹرکچر، آئی ٹی، زراعت اور بحری امور سمیت مختلف شعبوں میں مزید سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے۔

وزیراعظم نے استنبول میں چالک ہولڈنگ کے چیئرمین احمد چالک، البیرک گروپ کے چیئرمین احمد البیرک اور یونین آف دی چیمبر اینڈ کموڈیٹی ایکسچینجز آف ترکیہ (TOBB) کے صدر رفعت حصارسیکی اوغلو سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

ملاقاتوں کے دوران وزیراعظم نے پاکستان اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات کو مضبوط اقتصادی اور سرمایہ کاری شراکت داری میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت سرمایہ کار دوست پالیسیوں، شفاف نظام اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) اسٹریٹجک سرمایہ کاروں کو ون ونڈو سہولت اور ادارہ جاتی معاونت فراہم کر رہی ہے، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں کاروبار کے بہتر مواقع میسر آ رہے ہیں۔

وزیراعظم نے چالک ہولڈنگ کو توانائی، انفراسٹرکچر، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور نجکاری کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی کی پاکستان میں موجودہ سرگرمیاں مستقبل میں مزید تعاون کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔

انہوں نے البیرک گروپ کی پاکستان میں دیرینہ خدمات کو سراہتے ہوئے بندرگاہوں کی جدید کاری، بحری انفراسٹرکچر اور لاجسٹکس کے شعبوں میں مزید سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی اور ملک کے مواصلاتی و انفراسٹرکچر نظام میں کمپنی کے کردار کو اہم قرار دیا۔

یونین آف دی چیمبر اینڈ کموڈیٹی ایکسچینجز آف ترکیہ کے صدر سے ملاقات میں وزیراعظم نے دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان مستقل رابطوں کے لیے ایک منظم ادارہ جاتی نظام قائم کرنے کی تجویز دی اور ترک کاروباری وفد کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔

ترک کاروباری رہنماؤں نے حکومت پاکستان کی اقتصادی اصلاحات اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کو سراہتے ہوئے پاکستان کی معیشت پر اعتماد کا اظہار کیا اور مختلف اسٹریٹجک شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے اور طویل المدتی شراکت داری کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US