پاکستانی ڈرامے اپنی حقیقت کے قریب کہانیوں اور جذباتی رومانوی انداز کے باعث دنیا بھر میں مقبول ہیں، تاہم حالیہ عرصے میں ڈراموں میں ایک نئی اور دلچسپ روایت نے ناظرین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔
مختلف مقبول ڈراموں میں دیکھا جا رہا ہے کہ شادی کی پہلی رات دلہن اپنے دولہے کو کمرے سے باہر نکال دیتی ہے۔ کہیں قربت سے متعلق شرط رکھی جاتی ہے، کہیں کسی غلط فہمی یا منفی کردار کی وجہ سے نوبت یہاں تک پہنچتی ہے جبکہ بعض اوقات دولہا خود دلہن کو وقت دینے کے لیے کمرہ چھوڑ دیتا ہے۔
حالیہ مقبول ڈرامہ "شیدائی" میں علی اور میرال کی شادی کے بعد دلہن کی جانب سے دولہے کو کمرے سے باہر بھیجنے کا منظر دکھایا گیا، جس پر سوشل میڈیا پر کافی بحث ہوئی۔ اسی طرح "انسا" نے بھی شادی کے بعد انیس کو کمرے سے باہر نکال دیا، حالانکہ وہ اس کی ہر مشکل میں ساتھ دیتا رہا تھا۔
اس رجحان کی سب سے مشہور مثال بلاک بسٹر ڈرامہ "تیرے بن" ہے، جہاں میراب نے نکاح کے وقت مرتسم سے قربت نہ رکھنے کا معاہدہ سائن کروایا تھا، جس نے ناظرین میں خوب بحث چھیڑی۔
سوشل میڈیا پر صارفین اس رجحان پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔ کچھ ناظرین کے مطابق ایسے مناظر کہانی میں تجسس پیدا کرتے ہیں جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مناظر اب ایک دہرایا جانے والا فارمولا بن چکے ہیں اور ڈراموں کی حقیقت پسندی کو متاثر کرتے ہیں۔