“نرگسیت مزاج شریکِ حیات انسان کو اندر سے مار دیتا ہے، صبا حمید نے فرحین کے درد کو کمال انداز میں پیش کیا۔”
“شہنواز ہی فرحین کی موت کا ذمہ دار ہے، وہ کینسر سے نہیں بلکہ ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ دنیا سے گئی۔”
“فرحین کی موت نے مجھے رُلا دیا، یہ منظر بہت تکلیف دہ تھا۔”
ڈرامے ڈاکٹر بہو نے اپنی 28ویں قسط میں ایسا جذباتی موڑ اختیار کیا کہ ناظرین حیران اور افسردہ رہ گئے۔ ڈرامے میں فرحین کی اچانک موت نے نہ صرف کہانی کا رخ بدل دیا بلکہ سوشل میڈیا پر بھی ناظرین کو شدید ردعمل دینے پر مجبور کر دیا۔
ڈرامے میں فرحین اور شہنواز کی شادی کے ذریعے ایک ایسے رشتے کی تصویر دکھائی گئی ہے جس میں محبت کے بجائے کنٹرول، ذہنی دباؤ اور جذباتی اذیت موجود ہے۔ فرحین طویل عرصے سے شہنواز کے رویے، بے اعتنائی اور اپنی زندگی پر اس کی گرفت کے باعث ذہنی طور پر ٹوٹتی جا رہی تھی۔
کہانی میں بڑا انکشاف اس وقت ہوا جب فرحین کو معلوم ہوا کہ شہنواز نے کبھی اس سے سچی محبت نہیں کی۔ اسے یہ بھی پتا چلا کہ شہنواز اب بھی ڈاکٹر روبینہ کی جانب مائل ہے، حالانکہ ڈاکٹر روبینہ اسے مسترد کر چکی ہے۔ یہ حقیقت فرحین کے لیے ایک گہرا صدمہ ثابت ہوئی، کیونکہ اسے محسوس ہوا کہ اس کی پوری زندگی ذلت، بے بسی اور جذباتی قید میں گزر گئی۔
دل شکستہ فرحین اس صدمے کو برداشت نہ کر سکی اور نیند کے دوران اس کی موت ہو گئی۔ اس کے انتقال کے بعد اس کے بیٹوں کے رونے اور بکھرنے کے مناظر نے ناظرین کو بھی جذباتی کر دیا۔ کئی لوگوں نے کہا کہ فرحین کی موت نے اس بات کو نمایاں کیا کہ مسلسل ذہنی اور جذباتی تشدد کسی انسان کو کس حد تک کمزور کر سکتا ہے۔
دوسری جانب شہنواز کو یہ احساس تو ہے کہ فرحین کی حالت اور موت میں اس کے رویے کا بڑا کردار رہا، لیکن وہ اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے اب بھی دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانے میں مصروف ہے۔ ناظرین نے شہنواز کے کردار پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فرحین کی موت محض ایک بیماری یا حادثہ نہیں بلکہ برسوں کی بے قدری اور دل آزاری کا نتیجہ تھی۔