عالمی بینک نے پاکستان میں مالی وسائل کی تقسیم کے موجودہ نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو غیر ضروری اخراجات میں کمی اور نیا این ایف سی ایوارڈ جلد متعارف کرانے کی تجویز دی ہے۔
پاکستان میں عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار نے اپنے بیان میں کہا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم کا ازسرنو جائزہ لینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق نیا این ایف سی ایوارڈ ملکی معیشت کے استحکام کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے، جبکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی نئی تقسیم گزشتہ 15 برس سے زیر التوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں کو مزید اختیارات اور مالی وسائل فراہم کیے جانے چاہییں تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی بہتر بنائی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی منصفانہ تقسیم پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا بھی ناگزیر ہے۔
عالمی بینک کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً 35 لاکھ افراد روزگار کی تلاش میں لیبر فورس کا حصہ بنتے ہیں، جس کے پیش نظر معیشت کو مضبوط اور پائیدار بنیادوں پر استوار کرنا ضروری ہے۔ ادارے نے وفاقی حکومت کو غیر ضروری اخراجات میں کمی کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ اختیارات کی صوبوں کو منتقلی کے باوجود وفاق نے اپنے اخراجات میں خاطر خواہ کمی نہیں کی، جس کے باعث اسے تقریباً 2 ہزار ارب روپے کے مالی خسارے کا سامنا ہے اور قرضوں کا بوجھ بھی مسلسل بڑھ رہا ہے۔
بولورما امگابازار نے کہا کہ اہم قومی ترجیحات کے پیش نظر قابل تقسیم محاصل میں صوبوں کے حصے پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے صوبوں میں ٹیکس وصولی کا نظام مؤثر بنانے، زرعی آمدنی اور پراپرٹی ٹیکس کی بہتر وصولی یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔
کنٹری ڈائریکٹر کے مطابق پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب اب بھی کم ہے، جبکہ شہری علاقوں میں پراپرٹی ٹیکس کی وصولی صرف 0.13 فیصد ہے، جو دیگر ممالک میں 0.3 سے 0.6 فیصد کے درمیان ہے۔ انہوں نے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں صوبائی اخراجات بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
عالمی بینک نے انتظامی اخراجات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہتر مالیاتی نظم و نسق اور مؤثر وسائل کی تقسیم سے نہ صرف ملکی معیشت مستحکم ہوگی بلکہ عوامی خدمات کی فراہمی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔