نوجوانوں کو بیرونِ ملک روزگار دلانے کے لیے حکومتی اقدامات تیز

image

وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی سے متعلق ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں ملکی افرادی قوت، بالخصوص نوجوانوں، کو بیرونِ ملک روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ بیرونِ ملک پاکستانی سفارتخانے پاکستانی افرادی قوت کے لیے روزگار کے نئے مواقع تلاش کرنے کی کوششوں میں تیزی لائیں اور مختلف ممالک میں دستیاب ملازمتوں اور مطلوبہ مہارتوں کا ڈیٹا بروقت فراہم کریں۔ انہوں نے پروٹیکٹریٹ آف امیگریشن کے تمام نظام کو ڈیجیٹل بنانے کی بھی ہدایت کی۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی افرادی قوت باصلاحیت ہے اور حکومت انہیں عالمی معیار کی تعلیم، فنی تربیت اور بین الاقوامی سطح پر رسائی فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ وزارتِ سمندر پار پاکستانی، نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (نیوٹیک) اور وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام نوجوانوں کو ہنر، مختلف زبانوں کے کورسز اور بین الاقوامی معیار کی سرٹیفکیشنز فراہم کرنا یقینی بنائیں۔

وزیرِ اعظم نے مزید ہدایت کی کہ پاکستانی سرٹیفکیشنز کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے متعلقہ ادارے مختلف ممالک کے ساتھ روابط مضبوط کریں جبکہ جن ممالک میں پاکستانی ہنرمندوں کے لیے روزگار کے زیادہ مواقع موجود ہیں، وہاں کی زبانوں کی تعلیم اور سرٹیفکیشنز بھی فراہم کی جائیں۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل یوتھ ہب پر اب تک 8 لاکھ نوجوان رجسٹر ہو چکے ہیں۔ بریفنگ کے مطابق بیرونِ ملک تعمیرات، زراعت، سیاحت، صحت، ٹرانسپورٹ، بائیوٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ، شپ بلڈنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، نرسنگ، دواسازی اور اشیائے خورونوش کی تیاری سمیت مختلف شعبوں میں روزگار کے وسیع مواقع موجود ہیں، جن کے لیے پاکستانی نوجوانوں کی تربیت جاری ہے۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ مختلف ممالک میں موجود پاکستانی سفارتخانے دستیاب ملازمتوں اور مطلوبہ قابلیت سے متعلق معلومات ڈیجیٹل یوتھ ہب پورٹل پر فراہم کریں گے تاکہ نوجوان بروقت رہنمائی حاصل کر سکیں۔

اجلاس میں اسحاق ڈار، مصدق ملک، عطاء اللہ تارڑ، چوہدری سالک حسین، بلال اظہر کیانی، چیئرمین نیوٹیک راجا قمر الاسلام، چیئرمین وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US