میں نے شادی اس امید کے ساتھ کی تھی کہ میرا ایک پُرسکون اور محبت بھرا گھر ہوگا لیکن وقت کے ساتھ میری زندگی ذہنی دباؤ اور جذباتی تکلیف میں بدلتی گئی۔ میں نے اپنے والدین اور نومولود بیٹے کو بھی کھویا، کئی بار حالات نے مجھے مکمل طور پر توڑ دیا، مگر میں نے ہمت نہیں چھوڑی۔ اب میں اپنی زندگی کو دوبارہ سنوارنا چاہتی ہوں اور اداکاری ہی وہ راستہ ہے جس نے مجھے ہر مشکل وقت میں سنبھالا دیا۔
بھارتی اداکارہ سیلینا جیٹلی نے طویل عرصے بعد بھارت واپسی پر اپنی ازدواجی زندگی کے تلخ تجربات بیان کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شادی کے 15 برسوں میں انہیں ذہنی اور جذباتی بدسلوکی کا سامنا رہا جبکہ اسی عرصے میں والدین اور نومولود بیٹے کی وفات نے ان کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیا۔
اداکارہ کے مطابق گھریلو تشدد ہمیشہ واضح انداز میں شروع نہیں ہوتا۔ کئی رشتوں میں ابتدا محبت اور توجہ سے ہوتی ہے مگر پھر آہستہ آہستہ کنٹرول، خوف اور نفسیاتی دباؤ جگہ بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہرت، تعلیم یا کامیابی بھی کسی شخص کو ایسے حالات سے مکمل تحفظ نہیں دے سکتی۔
سیلینا جیٹلی نے بتایا کہ ازدواجی زندگی ختم ہونے کے بعد وہ کورونا وبا کے دوران آسٹریا کے ایک گاؤں میں تقریباً ڈھائی سال تنہائی میں رہیں۔ اس دوران مالی مسائل بھی سامنے آئے اور جڑواں بیٹوں ونسٹن اور ویراج کی ذمہ داری بھی انہیں اکیلے اٹھانی پڑی۔
انہوں نے کہا کہ بعض لمحوں میں مایوسی بہت گہری ہو گئی تھی لیکن فوجی افسر کی بیٹی ہونے کے باعث انہوں نے خود کو کمزور نہیں پڑنے دیا۔ ان کے مطابق زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے کسی نہ کسی مرحلے پر خود کو دوبارہ کھڑا کرنا ضروری ہوتا ہے۔
سیلینا جیٹلی اب فلم سسٹر نویدیتا کے ذریعے فلمی دنیا میں واپسی کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اداکاری ان کے لیے صرف پیشہ نہیں بلکہ زندگی کو نئے انداز سے شروع کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔
اداکارہ نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے مالی معاملات اور اثاثوں پر اپنا اختیار برقرار رکھیں کیونکہ مالی خودمختاری مشکل حالات میں فیصلہ کرنے کی طاقت دیتی ہے۔