”میں بزرگوں سے یہی کہوں گی کہ بڑھاپے میں اپنی صحت اور اپنے مالی معاملات کو سنبھال کر رکھیں، کیونکہ بعض اوقات جب انسان کے پاس یہ دونوں چیزیں نہ رہیں تو لوگ اس کی اہمیت بھی کم سمجھنے لگتے ہیں۔ ہر شخص ایسا نہیں ہوتا، مگر کچھ رویے واقعی بہت تکلیف دیتے ہیں۔“
”میں صاف کہتی ہوں کہ والدین کو اپنی زندگی میں اپنی جائیداد بچوں کے نام نہیں کرنی چاہیے۔ انسان کے انتقال کے بعد جو کچھ ہے وہ بچوں تک پہنچ ہی جاتا ہے، لیکن اگر زندگی میں ہی سب کچھ ان کے حوالے کر دیا جائے تو بعض لوگ والدین کی قدر کرنا بھول جاتے ہیں۔“
”اگر بزرگ کے پاس اپنے وسائل ہوں تو اس کی دوائی، علاج اور دیکھ بھال بھی بہتر انداز میں ہوتی ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اصل جوابدہی دنیا کے سامنے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ہے، اس لیے والدین کے ساتھ اچھا سلوک ہر حال میں ضروری ہے۔“
پاکستانی فلموں کی سینئر اداکارہ نشو بیگم نے بزرگ والدین کے مالی تحفظ اور عزت سے متعلق اہم بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ والدین کو جذبات میں آ کر اپنی زندگی میں تمام جائیداد بچوں کے نام منتقل نہیں کر دینی چاہیے۔
ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے نشو بیگم نے بڑھتی عمر کے ساتھ صحت، خودمختاری اور مالی استحکام کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ عمر کے اس حصے میں انسان کو اپنی ضروریات اور علاج کے لیے دوسروں پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے اپنے وسائل محفوظ رکھنے چاہییں۔
نشو بیگم نے کہا کہ والدین کی خدمت صرف اس وقت نہیں ہونی چاہیے جب ان کے پاس کچھ دینے کو ہو، بلکہ ان کی عزت اور دیکھ بھال کو ہر حال میں ترجیح ملنی چاہیے۔ انہوں نے معاشرے میں موجود ان رویوں پر افسوس کا اظہار کیا جہاں کمزور یا مالی طور پر محتاج بزرگوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
اداکارہ نے والدین اور بچوں کے رشتے میں محبت کے ساتھ ذمہ داری اور احترام کو بھی ضروری قرار دیا۔ ان کے مطابق بزرگوں کو تحفظ دینا اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنا اولاد کی اخلاقی اور دینی ذمہ داری ہے۔
نشو بیگم کی یہ گفتگو سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کر رہی ہے، جہاں کئی صارفین نے ان کے مشورے کو حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے بزرگ والدین کے حقوق اور ان کی خودمختاری پر بات کی ہے۔