کامیڈین اللّٰہ رکھا کی زندگی کے آخری ایام کیسے گزرے؟ بیٹے نے بتا دیا

image

میرے والد بہت باصلاحیت فنکار تھے، مگر ان کی زندگی بہت سادہ تھی۔ انہوں نے پوری عمر فن کے لیے کام کیا اور ہمارے لیے بہت سے خواب دیکھے۔ وہ چاہتے تھے کہ اپنی بیٹیوں کے لیے ایک چھوٹا سا گھر بنا سکیں اور مجھے کوئی مستقل روزگار مل جائے۔ والدہ کے انتقال کے بعد انہوں نے ہمیں اکیلے ہی سنبھالا لیکن ان کی کئی خواہشیں ادھوری رہ گئیں۔

پاکستانی اسٹیج کے معروف مزاحیہ فنکار اللہ رکھا پیپسی اچانک انتقال کر گئے۔ وہ ایک شو کی ریکارڈنگ میں مصروف تھے کہ طبیعت بگڑ گئی اور دل کا دورہ پڑنے کے باعث انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا تاہم وہ جناح اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی جانبر نہ ہو سکے۔

اللہ رکھا پیپسی نے کئی برسوں تک اسٹیج ڈراموں اور مزاحیہ پرفارمنس کے ذریعے ناظرین کو محظوظ کیا۔ وہ ملک کے مختلف شہروں میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے رہے اور اپنی برجستہ گفتگو، سادہ انداز اور منفرد مزاح کے باعث پہچانے جاتے تھے۔

ان کے بیٹے کے مطابق والد اپنی اہلیہ کے انتقال کے بعد بچوں کی ذمہ داریاں خود نبھاتے رہے۔ ان کا بیٹا شادی کے بعد الگ رہائش پذیر تھا جبکہ اللہ رکھا پیپسی اپنی بیٹیوں کے ساتھ رہتے تھے۔

مرحوم فنکار کے کیریئر میں معروف کامیڈین بابو برال، سہیل احمد اور دیگر فنکاروں کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ شامل رہا۔ بتایا جاتا ہے کہ بابو برال نے ہی انہیں پیپسی کا نام دیا تھا جو بعد میں ان کی شناخت بن گیا۔ ان کے ساتھی فنکار بھی ان کی صلاحیت اور فن سے وابستگی کو سراہتے تھے۔

ان کے انتقال کی خبر کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے افسوس کا اظہار کیا۔ بعض افراد نے کہا کہ فنکاروں کو زندگی میں وہ توجہ اور سہارا نہیں ملتا جس کے وہ حق دار ہوتے ہیں، جبکہ کئی صارفین نے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی۔

اللہ رکھا پیپسی کی وفات نے اسٹیج اور مزاح کی دنیا میں ایک خلا پیدا کر دیا ہے، جہاں وہ برسوں تک اپنی پرفارمنس سے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرتے رہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US