مارچ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کے حکومتی فیصلے کے بعد آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے جمع کرائے گئے کلیمز کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں جن کے مطابق اربوں روپے کے کلیمز کی ادائیگی تاحال زیر التوا ہے۔
دستاویزات کے مطابق حکومت نے 14 مارچ سے 2 اپریل تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور قیمتوں میں فرق کا بوجھ خود برداشت کیا۔ اس عرصے کے دوران 62 کروڑ 81 لاکھ لیٹر سے زائد پیٹرول فروخت ہوا جس پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے 46 ارب 19 کروڑ روپے سے زائد کے کلیمز جمع کرائے۔
حکام کے مطابق پیٹرول پر قیمتوں کے فرق کی مد میں 21 ارب 92 کروڑ روپے ادا کیے جا چکے ہیں جبکہ 24 ارب 26 کروڑ روپے کے کلیمز کی ادائیگی ابھی باقی ہے۔
دوسری جانب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے فرق کی ادائیگی کے معاملے پر اوگرا حکام نے انکشاف کیا ہے کہ 500 سے زائد بند پیٹرول پمپوں کی جانب سے بھی اربوں روپے کے کلیمز جمع کرائے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام کلیمز کی تصدیق مکمل ہونے تک ادائیگیاں روک دی گئی ہیں۔
دستاویزات کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل دونوں کی مد میں مجموعی طور پر 71 ارب 49 کروڑ روپے کے کلیمز تاحال ادا نہیں کیے جا سکے۔ اوگرا کا کہنا ہے کہ ادائیگیاں مکمل دستاویزی جانچ اور تصدیق کے بعد ہی کی جائیں گی۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ پیٹرول پمپوں سے گزشتہ 18 ماہ کے بجلی کے بل بھی طلب کر لیے گئے ہیں۔
دستاویز کے مطابق 14 مارچ سے 2 اپریل تک 48 کروڑ 71 لاکھ لیٹر سے زائد ڈیزل فروخت کیا گیا جس پر کمپنیوں نے 74 ارب 18 کروڑ روپے سے زائد کے کلیمز جمع کرائے۔ ان میں سے 31 ارب 96 کروڑ روپے سے زائد کی ادائیگی کی جا چکی ہے جبکہ 42 ارب 22 کروڑ روپے سے زائد کے کلیمز اب بھی واجب الادا ہیں۔