وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے فتنے کے مکمل خاتمے کے لیے ریاست اپنے تمام وسائل بروئے کار لائے گی اور آخری دہشتگرد کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور دہشتگردی کے خلاف قومی عزم غیر متزلزل ہے۔
کوئٹہ میں بلوچستان کی امن و امان کی صورتحال پر منعقدہ صوبائی اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ دہشتگرد حملوں میں پولیس اہلکاروں، سیکیورٹی فورسز کے جوانوں اور شہریوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا، جبکہ سیکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائیوں میں 54 دہشتگرد مارے گئے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی مسلح افواج نے دہشتگردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں اور پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ دہشتگرد عناصر کو پاکستان کے مشرقی ہمسایہ ملک کی سرپرستی، اسلحہ اور مالی معاونت حاصل ہے، جبکہ دہشتگرد افغان سرزمین بھی استعمال کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں ہونے والی دہشتگرد کارروائیوں میں بھی فتنہ الخوارج کے عناصر ملوث ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ سیاسی اور عسکری قیادت دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے یکسو ہے اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت ملک دشمن عناصر کے عزائم ناکام بنائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور پاکستان جلد امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ برس معرکۂ حق میں حاصل ہونے والی کامیابی اور پاکستان کی سفارتی کامیابیاں دشمنوں کو ہضم نہیں ہو رہیں، تاہم حکومت اور سیکیورٹی ادارے دہشتگردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔
وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، گورنر بلوچستان، وزیراعلیٰ بلوچستان، وفاقی وزراء عطا اللہ تارڑ، احد خان چیمہ، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان اور دیگر اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں بلوچستان کی مجموعی امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور صوبے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے مختلف اقدامات پر غور کیا گیا۔
دریں اثنا، ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک روز قبل پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ گزشتہ چار روز کے دوران بلوچستان میں دہشتگردی کے تین بڑے واقعات میں 42 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 54 دہشتگرد ہلاک کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگرد حملوں کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا تھا، تاہم بلوچستان کے عوام اور سیکیورٹی فورسز نے ان کارروائیوں کا بھرپور مقابلہ کیا۔