بھارت میں او ٹی ٹی پلیٹ فارم زی فائیو سے ہٹائے جانے کے باوجود دلجیت دوسانجھ کی فلم "ستلج" بیرونِ ملک مقیم شائقین میں مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔ معروف پنجابی گلوکار جسبر جسی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا سمیت مختلف ممالک میں فلم کو واٹس ایپ کے ذریعے بڑی تعداد میں شیئر کیا جا رہا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جسبر جسی نے کہا کہ اگرچہ بھارتی صارفین کے لیے فلم اب پلیٹ فارم پر دستیاب نہیں، تاہم بیرونِ ملک شائقین اسے مختلف ذرائع سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق فلم کی غیر رسمی شیئرنگ کا سلسلہ غیر معمولی رفتار سے جاری ہے۔
جسبر جسی نے فلم کو بھارت میں پلیٹ فارم سے ہٹانے کے فیصلے پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ فلم میں ایسا کوئی مواد موجود نہیں جس کی بنیاد پر اسے روکنے کی ضرورت پیش آتی۔
فلم "ستلج" انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالڑا کی زندگی اور جدوجہد پر مبنی ہے جو ابتدا ہی سے تنازعات کا شکار رہی۔ فلم کا ابتدائی نام "پنجاب 95" تھا اور اسے سنسر بورڈ کی منظوری کے لیے کئی برس انتظار کرنا پڑا۔ فلم کے ہدایت کار کے مطابق سنسر بورڈ نے متعدد تبدیلیوں اور کٹس کا مطالبہ کیا تھا۔
کئی برس کی تاخیر کے بعد فلم کو 3 جولائی کو "ستلج" کے نام سے زی فائیو پر ریلیز کیا گیا، تاہم کچھ ہی عرصے بعد اسے بھارتی صارفین کے لیے پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا۔ فلم میں دلجیت دوسانجھ کے ساتھ کنول جیت سنگھ اور ارجن رامپال نے بھی اہم کردار ادا کیے ہیں۔