او آئی سی سی آئی اراکین کی ایک دہائی میں پاکستان میں 23 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری

image

اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (OICCI) کے ممبران نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان میں 23 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے، جو اسی عرصے میں ملک میں آنے والی مجموعی نیٹ غیرملکی براہِ راست سرمایہ کاری (FDI) کے 21 ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہے۔

او آئی سی سی آئی کی جانب سے جاری کردہ ’’Members’ Contribution to the Economy 2025‘‘ رپورٹ کے مطابق، ممبران کی یہ سرمایہ کاری پاکستان کی معیشت میں ان کے طویل المدتی اعتماد، کاروباری سرگرمیوں میں توسیع اور حاصل شدہ منافع کو دوبارہ ملک میں سرمایہ کاری کرنے کے مسلسل رجحان کی عکاسی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025 میں رکن کمپنیوں نے مجموعی طور پر 13.1 ٹریلین روپے کی مجموعی آمدنی حاصل کی، 42 ٹریلین روپے کے مجموعی اثاثے برقرار رکھے، 615 ارب روپے کے سرمایہ جاتی اخراجات کیے جبکہ حکومت کو لیویز کی مد میں 3.2 ٹریلین روپے ادا کیے۔ یہ اعدادوشمار او آئی سی سی آئی کے ممبران کو پاکستان کے بڑے سرمایہ کاروں، ٹیکس دہندگان اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے والے نمایاں اداروں میں شامل کرتے ہیں۔

رپورٹ میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں لسٹڈ او آئی سی سی آئی کے ممبران کی مسلسل مضبوط اور مستحکم کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ 2021 سے 2025 کے دوران ان کمپنیوں کے قبل از ٹیکس منافع (PBT) کی پاکستانی روپے میں اوسط سالانہ شرح نمو 26فیصد رہی، جو گزشتہ رپورٹنگ مدت میں 35 فیصد تھی۔

رپورٹ کے مطابق اس کمی کی بنیادی وجوہات میں شرح مبادلہ میں اتار چڑھاؤ اور گزشتہ رپورٹنگ مدت کی بلند سطح کا اثر شامل ہے۔ تاہم امریکی ڈالر میں قبل از ٹیکس منافع کی اوسط سالانہ شرح نمو 11 فیصد رہی، جبکہ ٹرن اوور میں پاکستانی روپے کے لحاظ سے 21 فیصد اور امریکی ڈالر کے لحاظ سے 6 فیصد کی اوسط سالانہ شرح نمو ریکارڈ کی گئی۔

او آئی سی سی آئی کی 51 لسٹڈ رکن کمپنیوں پر مبنی یہ تجزیہ مشکل معاشی حالات کے باوجود غیرملکی سرمایہ کاری سے وابستہ کاروباری اداروں کی مسلسل منافع بخش کارکردگی اور آپریشنل مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔

رپورٹ میں او آئی سی سی آئی کے ممبران کی معاشی شراکت میں مختلف شعبوں کے نمایاں کردار کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ او آئی سی سی آئی کے ممبران میں آئل، گیس اور انرجی کے شعبے کا حکومت کو ادا کیے گئے مجموعی محصولات میں 36 فیصد حصہ رہا، جبکہ بینکنگ، انشورنس، فنانس اور لیزنگ کے شعبے نے مجموعی اثاثوں میں 75.6 فیصد اور مجموعی ٹرن اوور میں 25 فیصد حصہ ڈالا۔

اسی طرح ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے کا مجموعی کیپٹل ایکسپنڈیچر میں حصہ 33 فیصد رہا۔ فوڈ اینڈ کنزیومر پروڈکٹس، کیمیکلز، فارماسیوٹیکلز اینڈ ہیلتھ کیئر، آٹوموبائل، انجینئرنگ، شپنگ اینڈ ایئرلائنز سمیت دیگر شعبوں سے وابستہ کمپنیوں نے بھی نمایاں معاشی کردار ادا کیا، جو پاکستان بھر میں او آئی سی سی آئی کے ممبران کی وسیع البنیاد معاشی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔

رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے او آئی سی سی آئی کے سیکریٹری جنرل ایم عبدالعلیم نے کہا کہ اراکین نے مشکل معاشی حالات کے باوجود پاکستان میں مسلسل دوبارہ سرمایہ کاری کی، اپنے کاروباری آپریشنز کو توسیع دی اور قومی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران 23 ارب ڈالر سے زائد کی مجموعی سرمایہ کاری پاکستان کے مستقبل پر مضبوط اعتماد کا اظہار ہے۔

انہوں نے کہا کہ پالیسیوں میں تسلسل، ریگولیٹری نظام میں استحکام اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے تو غیرملکی سرمایہ کار معاشی ترقی، برآمدات، جدت اور روزگار کے فروغ میں مزید مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق او آئی سی سی آئی کے ممبران کی جانب سے مسلسل دوبارہ سرمایہ کاری اس لیے بھی اہم ہے کہ سرمایہ کاروں کو غیر واضح اور غیر مستحکم ٹیکس و پالیسی نظام، کاروباری لاگت میں اضافے، پالیسیوں پر غیرمستقل عمل درآمد، ساختی اصلاحات کی ضرورت، سیکیورٹی میں بہتری اور زیادہ شفافیت جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان حالات کے باوجود غیرملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے پاکستان میں مسلسل سرمایہ کاری ملک کی طویل مدتی معاشی صلاحیت اور ان مواقع پر اعتماد کا اظہار ہے، جن سے ایک مستحکم اور قابلِ پیش گوئی سرمایہ کاری کے ماحول کے ذریعے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US