سیلانی ویلفیئر کے رئیس المفتی نے کہا ہے کہ کرپٹو کرنسی کو یکسر ناجائز قرار دینا درست نہیں، ادارہ 13 ماہ قبل 37 صفحات پر مشتمل تفصیلی فتویٰ جاری کر چکا ہے جس میں شرعی تحقیق کی روشنی میں کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت کو مخصوص شرائط کے ساتھ جائز قرار دیا گیا تھا۔
سیلانی ہیڈ آفس میں بانی و چیئرمین مولانا محمد بشیر فاروق قادری کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا جس میں بلاک چین کے ماہرین اور رئیس المفتی مفتی وسیم اختر المدنی نے شرکت کی۔ اجلاس میں کرپٹو کرنسی کے حوالے سے جاری بحث کا ازسرنو جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے اعلامیے کے مطابق فتویٰ میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ڈیجیٹل اثاثے اپنے اصل مالک کے تصرف میں ہوتے ہیں، اس لیے وہ حق کی شرعی تعریف پر پورا اترتے ہیں۔ فتویٰ کے مطابق کرپٹو کرنسی یا ڈیجیٹل اثاثوں کی خرید و فروخت بطورِ حق جائز ہے، بشرطیکہ متعلقہ ملک کا قانون اس کی اجازت دیتا ہو اور اس میں کسی شرعی ممانعت کا پہلو موجود نہ ہو۔
مولانا محمد بشیر فاروق قادری نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے کرپٹو کرنسی کو ناجائز قرار دینا درست نہیں کیونکہ اس حوالے سے مختلف فقہی آراء موجود ہیں۔ ان کے مطابق صرف اس بنیاد پر کرپٹو کو ناجائز قرار نہیں دیا جا سکتا کہ اسے غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے، بلکہ شرعی اعتبار سے اس کے غالب استعمال کو دیکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ سیلانی ویلفیئر اپنا تفصیلی فتویٰ اسلامی نظریاتی کونسل، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور متعلقہ وزارت کو بھی بھجوا چکی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام مکاتبِ فکر کے علماء اور ماہرین کو ایک میز پر بٹھا کر اس معاملے پر متفقہ فیصلہ کیا جائے۔
مولانا بشیر فاروق قادری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بلاک چین ٹیکنالوجی کے فروغ کے وسیع مواقع موجود ہیں، سیلانی گزشتہ آٹھ برس سے طلبہ کو بلاک چین کی تعلیم دے رہی ہے اور اس شعبے میں تربیت یافتہ نوجوان فری لانسنگ کے ذریعے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کما سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرپٹو کرنسی سے متعلق حکومت جو بھی پالیسی اختیار کرے گی، سیلانی ویلفیئر اس کے ساتھ کھڑی ہوگی۔