گندم بحران کیوں پیدا ہوا؟ اصل کہانی سامنے آگئی

image

مارکیٹ ذرائع اور ڈیلرز کے مطابق وفاقی اور سندھ حکومت کی جانب سے گندم کی پیداوار کے لگائے گئے تخمینے غلط ثابت ہوگئے ہیں، جس کے باعث گندم کے شارٹ فال کا پتہ چلتے ہی اسٹیک ہولڈرز حکومت سے پہلے ہی سرگرم ہوگئے۔

ملک میں 70 فیصد گندم پیدا کرنے والے صوبے پنجاب کی جانب سے دیگر صوبوں کو ترسیل روکے جانے کے بعد ملک بھر میں شدید بے چینی پیدا ہوگئی ہے، اور گندم و آٹا مافیا نے صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قیمتیں بڑھانے کی منصوبہ بندی شروع کردی ہے۔

دوسری جانب، حکومتِ سندھ کی طرف سے گندم کی خریداری میں تاخیر کے باعث ذخیرہ اندوزوں نے بڑے پیمانے پر گندم ذخیرہ کرلی ہے، جبکہ فلار ملرز کا کہنا ہے کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی بار نئی فصل کی ایک لاکھ ٹن گندم سندھ سے خیبر پختونخوا منتقل کی گئی ہے۔

صنعتی ذرائع کے مطابق، کراچی میں موجود 101 فلار ملز میں سے 80 فیصد فعال جبکہ 20 فیصد غیر فعال ہیں، جبکہ اندرون سندھ کی صورتحال اس کے برعکس ہے جہاں 125 فلار ملز میں سے صرف 20 فیصد فعال اور 80 فیصد غیر فعال ہیں۔ اندرون سندھ کی یہ غیر فعال فلار ملز سرکاری کوٹہ حاصل کرکے بحران کے دوران گندم کو اوپن مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت کر دیتی ہیں، جبکہ سندھ کے بااثر افراد نے بھی گندم کے بڑے ذخائر بنالیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سنگین بحران پر قابو پانے کا واحد حل گندم مافیا کے خلاف حقیقی کریک ڈاؤن اور گندم کی بروقت درآمد ہے۔

حالیہ مارکیٹ سروے کے مطابق، کراچی سمیت سندھ بھر میں عوام کو سرکاری نرخوں پر آٹا یا روٹی دستیاب نہیں ہے۔ اوپن مارکیٹ میں ڈھائی نمبر عوامی آٹا 135 روپے، فائن آٹا 150 روپے اور چکی کا آٹا 160 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ ڈیڑھ ماہ قبل 104 روپے کلو بکنے والی گندم کی قیمت اب بڑھ کر 120 روپے کلو ہوچکی ہے۔

آٹے کی قیمتوں میں اس اضافے کے باعث کراچی میں روٹی کی قیمت بھی 5 روپے بڑھا دی گئی ہے، جس کے بعد شہر میں چپاتی 20 روپے جبکہ تندوری نان 25 سے 30 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US