اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، آمدنی میں کمی اور اخراجات میں اضافے کے باعث ملکی رواں کھاتہ (کرنٹ اکاؤنٹ) سرپلس سے منفی ہوگیا ہے۔
جون 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ میں 65 کروڑ ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ اس سے قبل مئی 2026 میں ملکی کرنٹ اکاؤنٹ 50 کروڑ ڈالر سرپلس رہا تھا۔ گزشتہ سال کی بات کی جائے تو جون 2025 میں بھی ملکی کرنٹ اکاؤنٹ 22 کروڑ ڈالر سرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا۔
ماہانہ خسارے کے ساتھ ساتھ پورے مالی سال 2025-26 میں بھی پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس سے منفی ہوگیا ہے اور اس مالی سال کے دوران ملکی کرنٹ اکاؤنٹ میں 14 کروڑ ڈالر کا خسارہ درج کیا گیا ہے۔
اس کے برعکس، گزشتہ مالی سال 2024-25 میں ملکی کرنٹ اکاؤنٹ 1 ارب 84 کروڑ ڈالر سرپلس رہا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملکی درآمدات میں اضافے اور برآمدات میں کمی کے باعث پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ پر یہ دباؤ دیکھا گیا ہے۔