پاکستانی کرکٹ کی برانڈ ویلیو میں کمی پر سابق چیئرمین پی سی بی خالد محمود کا اظہارِ تشویش

image

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین خالد محمود نے بین الاقوامی سطح پر قومی ٹیم اور پاکستان کرکٹ کی گرتی ہوئی برانڈ ویلیو پر شدید افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ایک یوٹیوب پوڈکاسٹ پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی گورننس کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عالمی باڈی بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے اثر و رسوخ کے تحت کام کر رہی ہے اور کرکٹ کو دنیا بھر میں پھیلانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔

سابق سینئر بیوروکریٹ اور پی سی بی کے سابق چیئرمین نے وضاحت کی کہ آئی سی سی کے اہم عہدوں پر ہندوستانیوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی اور فیصلوں پر بھارتی سیاست کا گہرا اثر ہے۔ ان کے مطابق آئی سی سی نے بنگلا دیش کے ساتھ پیش آنے والے مسائل اور حکومتی ضمانتوں کے باوجود بھارت کے پاکستان میں نہ کھیلنے پر کوئی واضح موقف اختیار نہیں کیا۔

خالد محمود نے کہا کہ اگرچہ بھارت ایک بڑی کرکٹ مارکیٹ ہے، لیکن کرکٹ براڈکاسٹنگ اور اسپانسرشپ میں بھارت کو اجارہ داری قائم کرنے کی اجازت دینے پر آئی سی سی اور دیگر ممبر بورڈز برابر کے قصوروار ہیں، جس کی وجہ سے اب بھارتی اسپانسرز کے بغیر ایونٹس کا انعقاد ممکن نہیں رہا۔

خالد محمود نے اپنے دورِ صدارت (1999) کا واقعہ یاد دلاتے ہوئے بتایا کہ ماضی میں سیاسی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کے باوجود بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) پاکستان ٹیم کی اعلیٰ برانڈ ویلیو کی وجہ سے ہر صورت سیریز کا انعقاد چاہتا تھا، یہاں تک کہ اس وقت کے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے بھی پاکستانی ٹیم کا خیرمقدم کیا تھا۔ تاہم، اب صورتحال بدل چکی ہے اور پاکستان ٹیم کی برانڈ ویلیو میں واضح کمی آئی ہے۔

انہوں نے بی سی سی آئی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی بورڈ نے اسپن پر منحصر انداز چھوڑ کر پچز کی بہتری اور فاسٹ باؤلنگ پر بھاری سرمایہ کاری کی، جس سے ان کی ٹیم عالمی سطح پر کامیاب ہوئی۔ خالد محمود نے زور دیا کہ پاکستان کرکٹ اسی وقت آگے بڑھ سکتی ہے جب کرکٹ کے انتظامی معاملات میں بار بار تبدیلیوں کا سلسلہ روکا جائے اور ساختاتی اصلاحات، شفاف انکوائریوں اور میرٹ پر مبنی تقرریوں کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے فیفا ورلڈ کپ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ آئی سی سی کرکٹ کو اس طرح عالمی سطح پر وسعت دینے میں ناکام رہا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US